ملفوظات (جلد 4) — Page 3
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳ جلد چهارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر خانہ میں نماز عید سے پیشتر قادیان میں عید الفطر احباب کے لئے میٹھے چاول طیار کروائے اور سب احباب نے تناول فرمائے ۔۔۔۔ گیارہ بجے کے قریب خدا کا برگزیدہ جرى اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ سادے لباس میں ایک چوغہ زیب تن کئے ہوئے مسجد اقصیٰ میں تشریف لایا جس قدر احباب تھے انہوں نے دوڑ دوڑ کر حضرت اقدس کی دست بوسی ( کی ) اور عید کی مبارک باد دی۔ اتنے میں حکیم نورالدین صاحب تشریف لائے اور آپ نے نماز عید کی پڑھائی اور ہر دو رکعت میں سورۃ فاتحہ سے پیشتر سات اور پانچ تکبیریں کہیں اور ہر تکبیر کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گوش مبارک تک حسب دستور اپنے ہاتھ اٹھائے ۔ بوقت ظهر ) اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو کمر کے گرد ایک صافہ لپیٹا ہوا تھا۔ فرمایا کہ کچھ شکایت درد گردہ کی شروع ہو رہی ہے اس لئے میں نے باندھ لیا ہے ذرا غنودگی ہوئی تھی اس میں الہام ہوا ہے۔ تا عود صحت فرمایا کہ صحت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جب تک وہ ارادہ نہ کرے کیا ہو سکتا ہے۔ ( بوقت عصر ) عصر کے بعد حضور نے مجلس فرمائی ۔سید ناصر شاہ صاحب کو مخاطب ہمت بلند رکھنی چاہیے کرکے فرمایا کہ ہمت بلند رکھنی چاہیے انسان اگر دنیوی امور میں ہمت ہار دے تو دینی امور میں بھی ہار دیتا ہے یہ عجیب چیز ہے کیونکہ وہ گواہی دیتی ہے کہ قومی ٹھیک ہیں جو لوگ کم ہمت ہیں ان میں پست خیالی پیدا ہو جاتی ہے۔ مسجدوں کے ملاں جو ہوتے ہیں ان کو دیکھو۔ ایک بار ہمارے میرزا صاحب ( مرحوم ) کے پاس یہاں کا ایک ملاں شکایت لایا کہ ہمارے جو گھر باہم تقسیم ہوئے ہیں تو مجھے چھوٹے قد کے آدمیوں کے گھر ملے ہیں اور ان کے مرنے سے بہت چھوٹا کفن ملا ہے یہاں تک حالت ان لوگوں