ملفوظات (جلد 3) — Page 91
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۱ جلد سوم اسی طرح پر یہ پان ، حقہ، زردہ ( تمباکو) افیون وغیرہ ایسی ہی چیزیں ہیں۔ بڑی سادگی یہ ہے کہ ان چیزوں سے پر ہیز کرے۔ کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان اُن کا بفرض محال نہ ہو تو بھی اس سے ابتلا آجاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے۔ مثلاً قید ہو جاوے تو روٹی تو ملے گی لیکن بھنگ چرس یا اور منشی اشیاء نہیں دی جاوے گی۔ یا اگر قید نہ ہو کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائم مقام ہو تو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔ عمدہ صحت کو کسی بیہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہیے۔ شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مضر ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ نشوں اور تقوی میں عداوت ہے۔ افیون کا نقصان بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔ طبی طور پر یہ شراب سے بھی بڑھ کر ہے اور جس قدر قوی لے کر انسان آیا ہے اُن کو ضائع کر دیتی ہے۔ منشی الہی بخش اور اُس کے دوسرے رفیق اعتراض کرتے بید مشک اور کیوڑہ کا استعمال ہیں کہ میں بید مشک اور کیوڑہ کا استعمال کرتا ہوں یا اور اس قسم کی دوائیاں کھاتا ہوں ۔ تعجب ہے کہ حلال اور طیب چیزوں کے کھانے پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر وہ غور کر کے دیکھتے اور مولوی عبداللہ غزنوی کی حالت پر نظر رکھتے تو میرا مقابلہ کرتے ہوئے اُن کو شرم آجاتی ۔ مولوی عبد اللہ کو بیویوں کا استغراق تھا اس لیے انڈے اور مرغ کثرت سے کھاتے تھے۔ یہاں تک کہ اخیر عمر میں شادی کرنا چاہتے تھے ۔ میری شہادت مل سکتی ہے کہ مجھے کیوڑہ وغیرہ کی ضرورت کب پڑتی ہے۔ میں کیوڑہ وغیرہ کا استعمال کرتا ہوں جب دماغ میں اختلال معلوم ہوتا ہے یا جب دل میں سنج ہوتا ہے۔ خدائے وحدہ لا شریک جانتا ہے کہ بجز اس کے مجھے ضرورت نہیں پڑتی۔ بیٹھے بیٹھے جب بہت محنت کرتا ہوں تو یکدفعہ ہی دورہ ہوتا ہے۔ بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ قریب ہے کہ غش آجاوے اس وقت علاج کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لیے ہر روز باہر سیر کو جاتا ہوں ۔ مگر مولوی عبد اللہ جو کچھ کرتے تھے یعنی مرغ ، انگور، انڈے وغیرہ جو استعمال کرتے تھے اس کی وجہ کثرت ازدواج تھی اور کوئی سبب نہ تھا۔ انبیاء علیہم السلام ان چیزوں کو استعمال کرتے تھے مگر وہ خدا کی راہ میں فدا تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی گھبراتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا