ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 92

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۲ جلد سوم کی ران پر ہاتھ مار کر کہتے کہ اے عائشہ ہم کو راحت پہنچا۔ آنحضرت کے لیے تو سارا جہان دشمن تھا۔ پھر اگر اُن کے لیے کوئی راحت کا سامان نہ ہو تو یہ خدا کی شان کے ہی خلاف ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے کہ جیسے کافور کے ساتھ دو چار مرچیں رکھی جاتی ہیں کہ اُڑ نہ جاوے۔ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے وہ تعلیم اور تربیت کے لیے کرتا ہے چونکہ شوکت اسلام کا آئندہ غلبہ کا زمانہ دیر تک رہتا ہے اور اسلام کی قوت اور شوکت صدیوں تک رہی اور اُس کے فتوحات دور دراز تک پہنچے۔ اس لیے بعض احمقوں نے سمجھ لیا کہ اسلام جبر سے پھیلا یا گیا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم ہے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) اس امر کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے اسلام جبر سے نہیں پھیلا اللہ تعالیٰ نے خاتم الخلفاء کو پیدا کیا اور اس کا کام يَضَعُ الْحَرْبَ رکھ کر دوسری طرف لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف : ۱۰) قرار دیا۔ یعنی وہ اسلام کا غلبہ مللِ بالکہ پر حجت اور براہین سے قائم کرے گا اور جنگ و جدال کو اُٹھا دے گا وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو کسی خونی مہدی اور خونی مسیح کا انتظار کرتے ہیں۔ اسلام کا سب سے بڑا اور عظیم الشان معجزہ جس کی نظیر کہیں نہیں اسلام کا عظیم الشان اعجاز مل سکی وہ اس کی حقانیت اور روشنی ہے وہ سی پہلو سے شرمندہ مل سکتی وہ اس کی نہیں ہوتا۔ تمام حقائق اور صداقتیں اسلام میں موجود ہیں۔ ہر ایک پہلو سے کامل ۔سب کے حملوں کا جواب دیتا ہے اور دوسروں پر ایسا حملہ کرتا ہے کہ اس کا جواب نہیں ہو سکتا۔ ہر ایک شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر دراز ہولیکن بہت ہی کم ہیں وہ لوگ جنہوں درازی عمر کا راز نے کبھی اس اصول اور طریق پرغور کی ہو جس سے انسان کی عمر دراز ہو۔ قرآن شریف نے ایک اصول بتایا ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد : ١٨) یعنی جو نفع رساں وجود ہوتے ہیں اُن کی عمر دراز ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو درازی عمر کا وعدہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے مفید ہیں ۔ حالانکہ شریعت کے دو پہلو ہیں ۔ اوّل خدا تعالیٰ کی عبادت ۔ دوسرے بنی نوع سے ہمدردی ۔ لیکن یہاں یہ پہلو اس لیے اختیار کیا ہے کہ کامل عابد وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے ۔ پہلے پہلو میں اوّل مرتبہ خدا تعالیٰ کی محبت اور توحید کا ہے۔