ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 89

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۹ جلد سوم سے نہیں اور وہ یہ احیاء ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ مردہ جی اٹھتا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے جو قانون باندھا ہے اُسے ہم مانتے ہیں اگر اس پر اعتبار نہ کریں اور یقین نہ لائیں تو امان اُٹھ جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کا قانون قدرت جو کتاب اللہ میں درج ہے اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی صفات کے خلاف نہیں کرتا۔ مثلاً کوئی کہے کہ خدا تعالیٰ قادر ہے تو کیا خودکشی بھی کر لیتا ہے؟ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ کبھی نہیں کیونکہ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى ( الحشر : ۲۵) کوئی صفت اس سے منسوب نہیں کر سکتے وہ اپنی صفات قدیمہ کے خلاف نہیں کرتا۔ غرض احیائے موتی اور قانون قدرت کے متعلق ہمارا یہی مذہب ہے کہ ہم اس احیاء کے قائل ہیں جو قرآن شریف نے بیان کیا اور وہ قانون قدرت ہمارا امام ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہوتا۔ ہوتا ہے۔ یورپ کا فلسفہ اور اس کی محدود تحقیقا تیں ہمارے لیے رہبر نہیں ہو سکتی ہیں۔ ہم اپنے خدا تعالیٰ پر یہ قوی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے صادق بندہ اگر وہ آگ میں ہمارا خدا قادر خدا ہے کو کبھی ضائع نہیں کرتا ۔ رتا ۔ حضرت ابراہیمؑ کی طرح اگر وہ ڈالا جاوے تو وہ آگ اس کو جلا نہیں سکتی ۔ ہمارا مذہب یہی ہے کہ ایک آگ نہیں اگر ہزار آگ بھی ہو تو وہ جلا نہیں سکتی ۔ صادق اُس میں ڈالا جاوے تو ضرور بچ جاوے گا ۔ ہم کو اگر اس کام کے مقابلہ میں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے آگ میں ڈالا جاوے تو ہمارا یقین ہے کہ آگ جلا نہیں سکے گی اور اگر شیروں کے پنجرہ میں ڈالا جاوے تو وہ کھا نہ سکیں گے۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ ہمارا خدا وہ خدا نہیں جو اپنے صادق کی مدد نہ کر سکے بلکہ ہمارا خدا قادر خدا ہے جو اپنے بندوں اور اس کے غیروں میں ما بہ الامتیا ز رکھ دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر دعا بھی ایک فضول تھے ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو دعا کچھ میں خدا تعالیٰ کی نسبت بیان کرتا ہوں اس کی قوتیں اور طاقتیں اس سے بھی کروڑ در کروڑ درجے بڑھ کر ہیں جن کو ہم بیان نہیں کر سکتے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ اگر قریش مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر آگ میں ڈال دیتے تو وہ