ملفوظات (جلد 3) — Page 88
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۸ جلد سوم اشتہار لکھ رہے ہیں ۔ آج پہلا دن ہے کہ حضرت حجۃ اللہ سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے اور اب انشاء اللہ حسب معمول ہر روز جایا کریں گے۔ سیر سے واپس آکر شیخ عبد الرحمن ملازم خان صاحب نواب محمد علی خان صاحب رئیس اعظم مالیر کوٹلہ نے جو اپنی غلط فہمی اور کو تہ اندیشی کی وجہ سے ان کی ملازمت سے مستعفی کوتہ وجہ ہوئے تھے رخصت چاہی۔ حضرت حجۃ اللہ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔ ملازم کے لئے ملازمت سے پہلے ایسی جگہ دیکھ لینی چاہیے جہاں آقا نیک اور متقی ہو کیونکہ بندگی بیچارگی ملازم ناصح کا درجہ نہیں پا سکتا اس لیے بسا اوقات ایسے لوگوں کی ملازمت ہوتی ہے جہاں دین برباد ہو جاتا ہے۔ پس نواب صاحب کی ملازمت کو بہت ترجیح دینی چاہیے نواب صاحب بڑے صالح اور با مروت ہیں اور پھر قادیان جیسی جگہ کو چھوڑ نا نہیں چاہیے یہاں امن سے بیٹھے ہو دنیا میں ایک آگ لگی ہوئی ہے اور ابھی معلوم نہیں کیا ہو گا ملک الموت قریب آرہا ہے لیکن یہاں تم سنتے ہو کہ خدا اپنا فضل کر رہا ہے جب انسان دینی فوائد کو چھوڑ کر دنیوی فوائد کے پیچھے جاتا ہے تو دنیوی فوائد بھی جاتے رہتے ہیں بس بڑی مجلسوں سے توبہ کرو اور جہاں تکذیب ہوتی ہو وہاں سے اٹھ جاؤ ورنہ تم بھی ان کے مثل سمجھے جاؤ گے میری رائے میں بہتری یہی ہے کہ تم اپنے اس ارادہ پر نظر ثانی کر لو۔ لے ۱۴ جون ۱۹۰۲ء ہم خدا تعالیٰ کے اسی قانون قدرت کو مانتے ہیں جو قرآن شریف میں مردوں کا جی اُٹھنا بیان ہوا ہے۔ جو مردہ ایسے ہیں کہ قبر میں رکھے جاتے ہیں اور ان کے پاس ملائکہ آتے ہیں ۔ اُن کی نسبت قرآن شریف کا یہی فتویٰ ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ( الزمر : ۴۳) مگر برنگ دیگر غیر حقیقی موت میں احیاء بھی ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے واقعات خود ہمارے ساتھ بھی پیش آئے ہیں چنانچہ مبارک کے متعلق اس قسم کی موتیں فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۲ ء صفحه ۱