ملفوظات (جلد 3) — Page 79
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۹ جلد سوم حضرت موسیٰ علیہ السلام میں تھا اور ناجائز کی مثال وہ علو ہے جو فرعون میں تھا۔ اور فرمایا کہ صبح کی نماز کے بعد یہ الہام ہوا ۔ إِنِّي أَرَى الْمَلَائِكَةَ الشَّدَادَ “ یعنی میں سخت فرشتوں کو دیکھتا ہوں جیسا کہ مثلاً ملک الموت وغیرہ ہیں۔ فرمایا کہ خدا کے غضب شدید سے بغیر تقویٰ و طہارت کے کوئی نہیں بچ سکتا۔ پس سب کو چاہیے کہ تقویٰ و طہارت کو اختیار کریں اور اگر کوئی فاسق اور فاجر دار میں داخل ہو جائے تو اُس کا بیچ رہنا یقینی کیوں کر ہو سکتا ہے۔ ہاں اس میں پھر بھی ایک قسم کی خصوصیت کی گئی ہے۔ کیونکہ جو لوگ علو استکبار نہ کریں اُن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن اِنَّهُ آوَى الْقَرْيَةَ میں یہ امر ہیں۔ وہاں انتشار اور ہلچل شدید سے بچنے کا وعدہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسا امر نہیں کرتا جس سے لوگوں کو جرات پیدا ہو جائے اور گناہ کی طرف جھکنے لگیں ۔ متکبر ، علو کرنے والوں کے استثناء کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک کافر نے حضرت رسول کریم کے زمانہ میں بیت اللہ کی پناہ لی تھی تو آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اس کو اسی جگہ قتل کر دو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا گھر مفسد کو پناہ نہیں دیتا۔ اس گاؤں میں دراصل اس قسم کے سخت دل اور مخالف دین اسلام لوگ موجود ہیں کہ اگر اس سلسلہ کا اکرام نہ ہوتا تو یہ سارا گاؤں ہلاک ہو جاتا۔ اور اب بھی اگر چہ ممکن ہے کہ بعض وارداتیں ہوں مگر تا ہم اللہ تعالیٰ ایک ما بہ الامتیاز قائم رکھے گا۔ کا ایک شخص نے ایک لمبا خط لکھا سیونگ بنک اور تجارتی کارخانوں کے سود کا حکم کر سینک بک کا نمود اور دیگر تجارتی کارخانوں کا شود جائز ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کو تجارتی معاملات میں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جب تک کہ اس کے سارے پہلوؤں پر غور نہ کی جائے اور ہر قسم کے ہرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے پیش