ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 80

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۰ جلد سوم نہ کیے جاویں ہم اس کے متعلق اپنی رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کیے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ اُن کو اختیار کرے اور اس سے پرہیز رکھے۔ ایمان صراط مستقیم سے وابستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے۔ مثلاً اگر دنیا میں سور کی تجارت ہی سب سے زیادہ نفع مند ہو جاوے تو کیا مسلمان اس کی تجارت شروع کر دیں گے۔ ہاں اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑنا اسلام کے لیے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔ تب ہم فَمَنِ اضْطُرَ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ (الانعام : ۱۴۶) کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر نہیں اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔ ہم فی الحال بڑے بڑے عظیم الشان امور دینی کی طرف متوجہ ہیں ۔ ہمیں تو لوگوں کے ایمان کا فکر پڑا ہوا ہے۔ ایسے ادنیٰ امور کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے ۔ اگر ہم بڑے عالیشان دینی مہمات کو چھوڑ کر ابھی سے ایسے ادنی کاموں میں لگ جائیں تو ہماری مثال اس بادشاہ کی ہوگی جو ایک مقام پر ایک محل بنانا چاہتا ہے، مگر اس جگہ بڑے شیر اور درندے اور سانپ ہیں اور نیز مکھیاں اور چیونٹیاں ہیں ۔ پس اگر وہ پہلے درندوں اور سانپوں کی طرف توجہ نہ کرے اور ان کو ہلاکت تک نہ پہنچائے اور سب سے پہلے مکھیوں کے فنا کرنے میں مصروف ہو تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس سائل کو لکھنا چاہیے کہ تم پہلے اپنے ایمان کا فکر کرو اور دو چار ماہ کے واسطے یہاں آکر ٹھہرو تا کہ تمہارے دل و دماغ میں روشنی پیدا ہو اور ایسے خیالات میں نہ پڑو ۔ " ۲۶ رمتی ۱۹۰۲ء او ۲۶ رمئی ۱۹۰۲ء کو ۹ بجے دن کے خدام جماعت کو مباحثوں اور مقابلوں کی ممانعت حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مختلف باتوں کے تذکرہ کے اثنا میں فرمایا۔ میں بڑی تاکید سے اپنی جماعت کو جہاں کہیں وہ ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ کسی قسم کا مباحثہ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۱،۱۰