ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 73

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۳ جلد سوم نَشْرًا و فَالْفُرِقْتِ فَرْقًا - فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرًا - عُذْرًا أَوْ نُذرا۔ (المرسلات: ۲ تا قسم ۷) ہے ان ہواؤں کی جو آہستہ چلتی ہیں یعنی پہلا وقت ایسا ہو گا کہ کوئی کوئی واقعہ طاعون کا ہو جایا کرے۔ پھر وہ زور پکڑے اور تیز ہو جاوے۔ پھر وہ ایسا ہو کہ لوگوں کو پرا گندہ کر دے۔ اور پریشان خاطر کر دے پھر ایسے واقعات ہوں کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق اور تمیز کردیں۔ اس وقت لوگوں کو سمجھ آجائے گی کہ حق کسی امر میں ہے۔ آیا اس امام کی اطاعت میں یا اس کی مخالفت میں ۔ یہ سمجھ میں آنا بعض کے لیے صرف حجت کا موجب ہوگا ۔ (عُذرًا ) یعنی مرتے مرتے اُن کا دل اقرار کر جائے گا اقرار کر جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے اور بعض کے لیے (نذرًا ) یعنی ڈرانے کا موجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے بدیوں سے باز آویں ۔ ۱۸ را پریل ۱۹۰۲ء الهام فرمایا کہ آج رات کو یہ الہام ہوا ۔ إِنِّي مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ - وَمَنْ يَلُوْمُهُ الُوْمُ - أَفْطِرُ وَأَصُومُ یعنی میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ اس کی مدد کروں گا اور جو اس کو ملامت کرے گا اُس کو ملامت کروں گا۔ روزہ افطار کروں گا اور روزہ رکھوں گا یعنی کبھی طاعون بند ہو جائے گی اور کبھی زور کرے گی۔ نماز جمعہ کے بعد انجمن حمایت اسلام کا اشتہار دربارہ دعا برائے دفعیہ طاعون آپ کو دکھایا گیا جس کی تحریک پر آپ نے طاعون کا مختصر اُردو اشتہار لکھا۔ قادیان میں ایک بدگو بد باطن مخالف بد گو بد باطن مخالف سے اعراض مناسب ہے آیا ہوا تھا۔ اس نے احباب میں سے ایک کو بلایا۔ وہ اس کے ساتھ بات کرنے کو گیا۔ حضرت کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ ایسے خبیث مفسد کو اتنی عزت نہیں دینی چاہیے کہ اُس کے ساتھ تم میں سے کوئی بات کرے۔ نشر کے معنے چیر ڈالنا منشر اسی سے نکلا ہے یعنی پھر وہ پوری تباہی لائیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ ء صفحه ۷ تا ۹