ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 72

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۲ جلد سوم اور فرمایا کہ اس میں ہم کو حضرت یحیی کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ حضرت یحیی کو یہود کی ان اقوام سے مقابلہ کرنا پڑا تھا جو کتاب اللہ توریت کو چھوڑ بیٹھے تھے اور حدیثوں کے بہت گرویدہ ہو رہے تھے اور ہر بات میں احادیث کو پیش کرتے تھے۔ ایسا ہی اس زمانہ میں ہمارا مقابلہ اہلِ حدیث کے ساتھ ہوا کہ ہم قرآن پیش کرتے اور وہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ ایک شخص اپنا مضمون اشتہار درباره طاعون سنا رہا اذان کے وقت کوئی اور نیکی کا کام کرنا تھا اذان ہونے لگی۔ وہ چپ ہو گیا۔ فرمایا ۔ پڑھتے جاؤ ۔ اذان کے وقت پڑھنا جائز ہے۔ ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرے اہل خانہ طاعون زدہ علاقہ میں جانے کی ممانعت اور بچے اک ایسے مقام میں ہیں جہاں طاعون کا زور ہے۔ میں گھبرایا ہوا ہوں اور وہاں جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا ۔ مت جاؤ لا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمُ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) پچھلی رات کو اٹھ کر اُن کے لیے دعا کرو۔ یہ بہتر ہو گا بہ نسبت اس کے کہ تم خود جاؤ ۔ ایسے مقام پر جانا گناہ ہے۔ حضرت اقدس کو الہام ہوا أَنْتَ مَعِي إِنِّي مَعَكَ - قرآنی الفاظ میں الہامات کی حکمت اني بايَعْتُكَ با یعنی ربی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے کہ قرآن شریف کو حل کیا جائے اس واسطے اکثر الہامات جو قرآن شریف کے الفاظ میں ہوتے ہیں ان کی ایک عملی تفسیر ہو جاتی ہے۔ اس سے خدا تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہی زندہ اور بابرکت زبان ہے اور تا کہ ثابت ہو جائے کہ تیرہ سو سال اس سے قبل ہی اسی طرح یہ خدا کا کلام نازل ہوا۔ فرمایا کہ اس آیت قرآن مجید میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئیاں قرآن کریم میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئی ہے وَ الْمُرْسَلْتِ عُرُفًا فَالْعُصِفْتِ عَصْفًا وَالنَّشِرَاتِ