ملفوظات (جلد 3) — Page 74
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۴ جلد سوم فرما یا کہ مختلف لوگوں کو جو رویا ہوئے ہیں خوابوں کو جمع کرنے کے لیے ارشاد کہ قادیان میں طاعون نہیں ہوگی ۔ ان خوابوں کو جمع کر کے شائع کر دینا چاہیے۔ مولوی محمد احسن صاحب ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کرتے اصل مقصد نقد میں رسول ہے ہیں ۔ ان کوفرمایا کہ اصل میں ہمارا منشا یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس ہو اور آپ کی تعریف ہو اور ہماری تعریف اگر ہو تو رسول اللہ کے ضمن میں ہو۔ مسیح سلف صالحین کے متعلق مسلک کی متعلق مسلک فرمایا۔ وفات کی کیا ایسے مسائ کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ کہہ آئے ان کے متعلق ہم حضرت موسیٰ کی طرح یہی کہتے ہیں کہ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي (الاعراف : ۱۸۸) یعنی گذشتہ لوگوں کے حالات سے اللہ تعالیٰ بہتر واقف ہے۔ ہاں حال کے لوگوں کو ہم نے کافی طور پر سمجھا دیا ہے اور حجت قائم کر دی ہے۔ فرمایا۔ خدا تو چور کا بھی دشمن ہے۔ اگر میں مفتری ہوتا تو وہ مجھے اتنی ایک الہام کی تشریح مہلت کیوں دیتا۔ ہاں اللہ تعالی کی عادت میں سے ہے کہ موافق مخالف ہر طرح کے لوگ دنیا میں ہوں تا کہ ایک نظارہ قدرت ہو۔ جن دنوں لڑکی پیدا ہوئی تھی اور لوگوں نے غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے شور مچایا کہ پیشگوئی غلط نکلی ۔ ان دنوں میں یہ الہام ہوا تھا دشمن کا بھی خوب دار نکلا تیس پر بھی وہ وار پار نکلا وہ وار یعنی مخالفوں نے تو یہ شور مچایا ہے کہ پیشگوئی غلط نکلی مگر جلد فہیم لوگ سمجھ جائیں گے اور نا واقف شرمندہ ہوں گے۔ فرمایا ۔ مکہ والوں کو جب فتح کا وعدہ دیا گیا تو ان کو ۱۳ سال اس کے انتظار میں گزر گئے۔ مگر آخر اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا دن آگیا اور دشمن ہلاک ہو گئے ورنہ وہ کہا کرتے تھے مَتَى هُذَا الْفَتْحُ (السجدة: ٢٩)