ملفوظات (جلد 3) — Page 65
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۵ جلد سوم سزا دے گا اور اس غریب کو جس نے اس کے ساتھ اپنی ہمت اور طاقت سے بڑھ کر سلوک کیا وہ دے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ خدا کہے گا کہ میں بھوکا تھا مجھے کھانا نہ دیا۔ یا میں ننگا تھا مجھے کپڑا نہ دیا۔ میں پیاسا تھا مجھے پانی نہ دیا۔ وہ کہیں گے کہ یا رب العالمین کب؟ وہ فرمائے گا۔ فلاں جو میرا حاجتمند بندہ تھا اس کو دینا ایسا ہی تھا جیسا مجھ کو۔ اور ایسا ہی ایک شخص کو کہے گا کہ تو نے روٹی دی کپڑا دیا۔ وہ کہے گا کہ تو تو رب العالمین ہے تو کب گیا تھا کہ میں نے دیا ؟ تو پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں بندہ کو دیا تھا۔ غرض نیکی وہی ہے جو قبل از وقت ہے اگر بعد میں کچھ کرے تو کچھ فائدہ نہیں۔ خدا نیکی قبول نہیں کرتا جو صرف فطرت کے جوش سے ہو۔ کشتی ڈوبتی ہے تو سب روتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں مگر وہ رونا اور چلانا چونکہ تقاضائے فطرت کا نتیجہ ہے اس لیے اس وقت شود مند نہیں ہو سکتا اور وہ اس وقت مفید ہے جو اس سے سے پہلے ہوتا ہے جبکہ امن کی حالت ہو۔ یقینا سمجھو کہ خدا کو پانے کا یہی گر ہے جو قبل از وقت چوکنا اور بیدار ہوتا ہے۔ ایسا بیدار کہ گویا اس پر بجلی گرنے والی ہے۔ اس پر ہرگز نہیں گرتی۔ لیکن جو بجلی کو گرتے دیکھ کر چلاتا ہے اُس پر گرے گی اور ہلاک کرے گی ۔ وہ بجلی سے ڈرتا ہے نہ خدا سے ۔ اسی طرح پر جب طاعون گھر میں آگئی اس وقت اگر تو بہ واستغفار شروع کیا تو وہ طاعون کا خوف ہے نہ خدا کا۔ اس کا بت طاعون ہے خدا معبود نہیں۔ اگر خدا سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ اس کو نقصان نہ پہنچاؤ ۔ یہ مت سمجھو کہ طاعون گرمی میں ہٹ جاتی ہے سردی میں پھر یہی بلا آن موجود ہوتی ہے۔ بعض وقت اس کا دورہ ستر ستر برس تک ہوتا ہے۔ یہود پر بھی یہی بلا پڑی تھی۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ میں اللہ تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے کہ ان یہودیوں کی راہ سے بچائیو جن پر طاعون پڑی تھی پس قبل از وقت عاجزی کرو گے تو ہماری دعا ئیں بھی تمہارے لیے نیک نتیجے پیدا کریں گی۔ لیکن اگر تم غافل ہو گئے تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ خدا کو ہر وقت یاد رکھو اور موت کو سامنے موجود سمجھو۔ زمیندار بڑے نادان ہوتے ہیں۔ اگر ایک رات بھی امن سے گذر جاوے تو بے خوف ہو جاتے ہیں۔ دیکھو! تم لوگ کچھ محنت کر کے کھیت تیار کرتے ہو تو فائدہ کی امید ہوتی ہے۔ اسی طرح پر امن