ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 64

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد سوم نہیں ۔ یہ خدا کا فضل و کرم ہے اس لیے تو بہ کا وقت ہے اور اگر مصیبت سر پر آپڑی اس وقت تو بہ کیا فائدہ دے گی ۔ جموں ، سیالکوٹ اور لدھیانہ وغیرہ اضلاع میں دیکھو کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک طوفان برپا ہے اور قیامت کا ہنگامہ ہو رہا ہے اس قدر خوفناک موتیں ہوئی ہیں کہ ایک سنگدل انسان بھی اس نظارہ کو دیکھ کر ضبط نہیں کر سکتا۔ چھوٹا سا بچہ پاس پڑا ہوا تڑپ رہا اور بلبلا رہا ہے ماں باپ سامنے مرتے ہیں کوئی خبر گیر نہیں ہے۔ بہت عرصہ کا ذکر ہے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ ایک بڑا میدان ہے اس میں ایک بڑی نالی کھدی ہوئی ہے جس پر بھیڑیں لٹا کر قصاب ہاتھ میں چھری لئے ہوئے بیٹھتے ہیں اور آسمان کی طرف منہ کیسے ہوئے حکم کا انتظار کرتے ہیں۔ میں پاس ٹہل رہا ہوں۔ اتنے میں میں نے پڑھا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸ ) یہ سنتے ہی انہوں نے جھٹ چُھری پھیر دی بھیڑیں تڑپتی ہیں اور وہ قصاب انہیں کہتے ہیں کہ تم ہو گیا، گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو وہ نظارہ اس وقت تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ غرض خدا بے نیاز ہے، اُسے صادق مومن کے سوا اور کسی کی پروا نہیں ہوتی اور بعد از وقت دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مہلت دی ہے اُس وقت اُسے راضی کرنا چاہیے لیکن جب اپنی سیہ کاریوں اور گناہوں سے اُسے ناراض کر لیا اور اس کا غضب اور غصہ بھڑک اُٹھا۔ اُس وقت عذاب الہی کو دیکھ کر توبہ استغفار شروع کی اس سے کیا فائدہ ہو گا جب سزا کا فتوی لگ چکا ۔ یہ ایسی بات ہے کہ جیسے کوئی شہزادہ بھیس بدل کر نکلے اور کسی دولت مند کے گھر جا کر روٹی یا کپڑا پانی مانگے اور وہ با وجود مقدرت ہونے کے اس سے مسخری کریں اور ٹھٹھے مار کر نکال دیں۔ اور وہ اسی مائے باوجود اسے مسخر کریں اور مارکر طرح سارے گھر پھرے لیکن ایک گھر والا اپنی چار پائی دے کر بٹھائے اور پانی کی بجائے شربت اور خشک روٹی کی بجائے پلاؤ دے اور پھٹے ہوئے کپڑوں کی بجائے اپنی خاص پوشاک اس کو دے تو اب تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ چونکہ دراصل تو بادشاہ تھا اب ان لوگوں سے کیا سلوک کرے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کمبختوں کو جنہوں نے باوجود مقدرت ہونے کے اس کو دھتکار دیا اور اس سے بدسلوکی کی سخت