ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 58

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۸ جلد سوم سنوار سنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھ لو۔ اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔ قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اُس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو ۔ نماز کو اسی طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔ البتہ اپنی حاجتوں اور مطالب کو مسنون اذکار کے بعد اپنی زبان میں بیشک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے مانگو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے نماز ہرگز ضائع نہیں ہوتی ۔ آجکل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔ نمازیں کیا پڑھتے ہیں ٹکریں مارتے ہیں۔ نماز تو بہت جلد جلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مار کر پڑھ لیتے ہیں اور پیچھے دعا کے لیے بیٹھے رہتے ہیں۔ نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہی ہے۔ نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا حال عرض کرنے کا موقع بھی ہو لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔ اسے کیا فائدہ؟ ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعا ئیں نہیں مانگتے ۔ تم کو جو دعائیں کرنی ہوں نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں ۔ سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے چنانچہ اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔۔۔۔ إلى آخِرِهِ - یعنی دعا سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جاوے جس سے اللہ تعالیٰ کے لیے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو، اس لیے فرمایا الْحَمْدُ لِلہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ رب العلمین سب کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا - الرحمن جو بلا عمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔ الرَّحِیمِ پھر عمل پر بھی بدلہ دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہر بدلہ اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ نیکی بدی سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پورا اور کامل موحد تب ہی ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو مالک یوم الدین تسلیم کرتا ہے۔ دیکھو حکام کے سامنے جا کر ان کو