ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد سوم سب کچھ تسلیم کر لینا یہ گناہ ہے اور اس سے شرک لازم آتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو حاکم بنایا ہے۔ اُن کی اطاعت ضروری ہے مگر اُن کو خدا ہرگز نہ بناؤ۔ انسان کا حق انسان کو اور خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو۔ پھر یہ کہو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔۔۔۔ الخ ہم کو سیدھی راہ دکھا یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیے اور وہ نبیوں، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے۔ اس دعا میں ان تمام گروہوں کے فضل اور انعام کو مانگا گیا ہے۔ ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔ غرض یہ مختصر طور پر سورۃ فاتحہ کا ترجمہ ہے۔ اسی طرح پر سمجھ سمجھ کر ساری نماز کا ترجمہ پڑھ لو اور پھر اسی مطلب کو سمجھ کر نماز پڑھو۔ طرح طرح کے حرف رٹ لینے سے کچھ فائدہ نہیں ۔ یہ یقیناً سمجھو کہ آدمی میں سچی توحید آہی نہیں سکتی جب تک وہ نماز کو طوطے کی طرح پڑھتا ہے۔ روح پر وہ اثر نہیں پڑھتا پا پڑتا اور ٹھوکر نہیں لگتی جو اس کو کمال کے درجہ تک پہنچاتی ہے۔ عقیدہ بھی یہی رکھو کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ثانی اور نہ نہیں ہے اور اپنے عمل سے بھی یہی ثابت کر کے دکھاؤ۔ خدا تعالیٰ کی دو زبر دست گواہیاں ہر بات سلسلہ احمدیہ کے برحق ہونے کا ثبوت میں ہیں جو خدا تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اول گواہی اس کی کتاب کی ہے جو قرآن شریف ہے۔ قرآن شریف میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب صحیح اور سچ ہے اور ہم ایمان لاتے اور یقین کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے پس اس کو مانو اور دوسری گواہی اس کے کام کی ہے۔ زمین و آسمان اپنی شہادتوں سے اس کی سچائی کو ثابت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو جو قائم کیا ہے اور مجھے جو پیدا کیا ہے تو اس میں بھی ان دونوں گواہیوں کو ساتھ رکھا ہے۔ اول ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے فوت ہونے کا بڑی صفائی کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر کیا اور تین آیتوں میں کھول کھول کر اُس کی موت بیان کی۔ دوم ۔ قرآن شریف نے یہ بھی تعلیم دی کہ حقیقی مردے کبھی واپس نہیں آسکتے ۔