ملفوظات (جلد 3) — Page 57
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۷ جلد سوم انسان کی عادت میں داخل ہے کہ جب اس کی عادت اور عقیدہ کے خلاف کہا جاوے تو وہ مخالف ہو جاتا ہے اور ناراض ہو جاتا ہے۔ ایک ہندو کو جب گنگا کے خلاف ذراسی بات بھی کہی جاوے تو وہ دشمن بن جاتا ہے۔ پھر گل مذاہب کے خلاف کہا گیا وہ کیوں ناراض نہ ہوتے اور اس پر اگر خدا کی طرف سے یہ کام نہ ہوتا تو تباہ ہو جاتا۔ اس قدر مخالفت کے ہوتے ہوئے اس کا سرسبز ہونا ہی اس کے قدر من خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل ہے۔ پھر عام پیروں اور مشائخ کی طرح نہیں کہ نذرو نیاز سے ہی کام ہے خواہ وہ چوری کی ہی ہو اور کچھ بھی خدا تعالیٰ کی سچی شریعت کے متعلق نہیں بتاتے بلکہ بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ وہ اس قدر جرات نہیں کر سکتے کہ ایک چور مرید کو چوری کرنے سے منع کر سکیں یا شود خوار یا بد کار کو اس کے عیبوں سے آگاہ کر سکیں۔ دنیا کے گدی نشینوں اور مہنتوں کا اس طرح پر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ یہ خدا ہی کے سلسلہ میں برکت ہے کہ وہ دشمنوں کے یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے درمیان پرورش پا تا اور بڑھتا ہے۔ لے اُنہوں نے بڑے بڑے منصوبے کئے ۔ خون تک کے مقدمے بنوائے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو باتیں ہوتی ہیں، وہ ضائع نہیں ہو سکتیں ۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے۔ اگر انسانی ہاتھوں اور انسانی منصوبوں کا نتیجہ ہوتا تو انسانی تدابیر اور انسانی مقابلے اب تک اُس کو نیست و نابود کر چکے ہوتے۔ انسانی منصوبوں کے سامنے اس کا بڑھنا اور ترقی کرنا ہی اس کے خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہے۔ پس جس قدر تم اپنی قوت یقین کو بڑھاؤ گے اسی قدر دل روشن ہوگا ۔ قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی نا اُمید نہ ہو۔ مومن خدا سے کبھی مایوس دعا کے آداب نہیں ہوتا۔ یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے۔ اسے مایوس ہو جاتے ہیں ۔ ہمارا خدا علی کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ خدا ہے ۔ قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو الحکم جلد ۶ نمبر ۲۲ مورخه ۱۷ رجون ۱۹۰۲ صفحه ۴، ۵