ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vi of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page vi

آپ کے اسوہ حسنہ کو بھول گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے کامل بروز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تا آپ کا اسوہ حسنہ از سرِ نو آپ عملی رنگ میں زندہ کریں ۔ چونکہ ظلی طور پر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کے وارث ہوئے اس لئے آپ پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہی آیت بطور الہام نازل کر کے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس زمانہ میں اگر کوئی خدا تعالیٰ کا محبوب بننا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ محبت الہی اور محبت رسول کے اظہار کے لئے آپ کے نقش قدم پر چلے اور اشاعت اور ترقی اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کرے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی سیرت کے مختلف پہلو اور آپ کے ملفوظات اور نصائح اہل دنیا کی ہدایت کے لئے محفوظ رکھے جاتے ۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی ہی میں جرائد سلسلہ کے ذریعہ اس مقصد کو باحسن طریق پورا کر دیا جواب الشركة الاسلامية کتابی صورت میں شائع کر رہی ہے۔ دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان ملفوظات طیبہ کو بغور پڑھیں اور ان کے مطابق اپنی زندگی بنائیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں وو جو لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جاوے تو غور سے اس کو نہیں سنتے ہیں۔ ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا مفید اور مؤثر کیوں نہ ہو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا ۔ ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کان رکھتے ہیں مگر سنتے نہیں ۔ دل رکھتے ہیں پر سمجھتے نہیں ۔ پس یا د رکھو کہ جو کچھ بیان کیا جاوے اُسے توجہ اور بڑی غور سے سنو۔“ اور فرماتے ہیں :۔ وو جب خدا تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں مامور کر کے بھیجتا ہے تو اس وقت دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو ان کی باتوں پر توجہ کرتے اور کان دھرتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے پورے غور سے سنتے ہیں۔ یہ فریق وہ ہوتا ہے جو فائدہ اٹھاتا ہے اور سچی نیکی اور اس کے برکات وثمرات کو پالیتا ہے۔ دوسرا فریق وہ ہوتا ہے جو اُن کی باتوں کو