ملفوظات (جلد 3) — Page v
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام از نومبر ۱۹۰۱ء تا ۱۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات طیبہ کی یہ تیسری جلد ہے جو نومبر ۱۹۰۱ء سے لے کر ۱۴ راکتوبر ۱۹۰۲ ء تک کے ملفوظاتِ طیبہ پر مشتمل ہے۔ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ضرورت اور ان کی اہمیت سے متعلق ملاحظہ ہو پیش لفظ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول ۔ اس کی ترتیب و تدوین بھی زیادہ تر جناب چوہدری احمد جان صاحب وکیل المال کی مساعی کی رہین منت ہے۔ اتباع مسیح موعود اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر انبیاء یا مامورین آئے ان کی اتباع اور اطاعت کئے بغیر ان کی قوم کا کوئی فرد محبوب الہی نہیں بن سکتا تھا ۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو کہ سب قوموں اور سب ملکوں اور سب زمانوں کے لئے بھیجے گئے تھے اتباع کرنا اور آپ کے نقش قدم پر چلنا محبوب الہی بننے کے لئے ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ کے لوگوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ۔ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یعنی اے رسول تو اعلان کر دے کہ اے اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدارو اگر تم فی الحقیقت اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو اور میرے نقشِ قدم پر چلو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا ۔ ” فَاتَّبِعُونِی “ میں اس طرف اشارہ کیا گیا کہ آپؐ کے حالات، آپ کے اخلاق اور آپ کی اللہ تعالیٰ سے محبت اور آپ کی بنی نوع سے ہمدردی وغیرہ سب امور اوراق تاریخ میں محفوظ کئے جائیں گے تا ہر زمانہ کے لوگ آپ کے نقش قدم پر چل سکیں لیکن امتداد زمانہ سے جب مسلمان بھی 66