ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 45

ملفوظات حضرت مسیح موعود لده جلد سوم اور کچھ تاریکی کا ، اس لیے وہ دلائل اور معجزات کے محتاج ہوتے ہیں ۔ مگر تیسرا طبقہ جو ظالمین کا ہوتا ہے وہ چونکہ بہت ہی غبی اور بلید ہوتے ہیں بجز مار کھانے کے وہ نہیں مانتے ۔ یہ ایک قسم کا جبر ہوتا ہے جو ہر مذہب حق میں پایا جاتا ہے، کیونکہ ظالمین بجز اس کے سمجھ نہیں سکتے ۔ حضرت مسیح کے لیے طیطاؤس رومی کا اتفاق ہو گیا۔ موسیٰ کی قوم جو پہلے ہی سے مزدوریوں اور فرعون کی سختیوں سے نالاں تھی اس نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو قبول کر لینا اپنی نجات کا موجب سمجھا اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کے لیے وقتاً فوقتاً ان پر عذاب بھیجتا رہا۔ کبھی طاعون کبھی زلزلے مختلف طریق پر انہیں منوایا اور اسی طرح ہوتا رہا ہے۔ غرض یہ ایک سنت اللہ ہے کہ ظالمین کو اللہ تعالی اس طریق پر سمجھاتا ہے کیوں؟ یہ فرقہ زیادہ بھی ہوتا ہے اور نبی بھی ۔ اس وقت بھی یہ فرقہ زیادہ ہے جو نشانات خدا نے ظاہر کئے ان پر بھی جرح کرتے ہیں ۔ کسوف خسوف کی حدیث کو مجروح قرار دے دیا۔ لیکھرام کی پیشگوئی پر اعتراض کر دیا۔ ہر نشان جو ظاہر ہوتا ہے اعتراض کر دیتے ہیں مگر خدا تو سب کا مرشد ہے اس نے تیسری صورت اور آخری حجت اختیار کی ہے جو طاعون ہے۔ طاعون کا علاج تو بہ واستغفا رہی ہے۔ یہ کوئی طاعون کا علاج تو بہ، استغفار اور تہجد معمولی بلا نہیں بلکہ ارادہ الہی سے نازل ہوئی ہے یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہماری جماعت میں سے کسی کو نہ ہو ۔ صحابہ میں سے بھی بعض کو طاعون ہو گئی تھی لیکن ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے حضور تضرع اور زاری کرتا ہے اور اس کے حدود و احکام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے جلال سے ہیبت زدہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا ہے وہ خدا کے فضل سے ضرور حصہ لے گا اس لیے ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ تہجد کی نماز کولازم کر لیں ۔ جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں ۔ جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟