ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 46

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶ جلد سوم پس اس وقت کا اُٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے لیکن جبکہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔ پھر ایک اور بات بھی ضروری ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خدا تعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آجاتا ہے جب خدا ڈیوڑھی میں آگیا تو پھر اندر آنا کیا تعجب ہے؟ پھر یاد رکھو کہ حقوق اللہ اور حقوق عباد میں دانستہ ہرگز غفلت نہ کی جاوے۔ جو ان امور کو مد نظر رکھ کر دعاؤں سے کام لے گا یا یوں کہو کہ جسے دعا کی توفیق دی جاوے گی ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اور وہ بچ جاوے گا ۔ ظاہری تدابیر صفائی وغیرہ کی منع نہیں ہیں بلکہ بر تو گل زانوے اشتر به بند پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فرمایا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّتُهَا (الشمس : ١٠) ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ وہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔ تمہیں یاد ہو گا کہ مجھے الہام ہوا تھا آیامُ غَضَبِ الله غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِيدًا یہ طاعون کے متعلق ہے مگر وہی خدا کے فضل کا امیدوار ہو سکتا ہے جو سلسلہ دعا، تو بہ اور استغفار کا نہ توڑے اور عمداً گناہ نہ کرے۔ گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہے گناہ سے صرف خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت ہٹاتی ہے طاعون بھی گناہوں سے بچانے کے لیے ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ سعید کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔ بعض کے حالات سنے ہیں کہ انہوں نے دعا کی کہ کوئی ہیبت ناک نظارہ ہو تا کہ دل میں رقت اور درد پیدا ہو۔ اب اس سے بڑھ کر کیا ہیبت ناک نظارہ ہوگا کہ لاکھوں بچے یتیم کیے جاتے ہیں۔ بیواؤں سے گھر بھر جاتے ہیں۔ ہزاروں خاندان بے نام و نشان