ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 496

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۶ جلد سوم از صفحه نمبر ترجمه فارسی ۳۱۶ تو نے ملک مصر سے تو گرتے کی بو سونگھ لی لیکن یہیں کنعان کے کنوئیں میں اسے کیوں نہ دیکھا۔ ۳۱۶ اس نے کہا کہ ہمارا حال بجلی کی طرح ہے ایک لمحہ دکھائی دیتی ہے اور دوسرے لمحہ غائب ہو جاتی ہے۔ ۳۱۷ کبھی تو میں ایک بلند مقام پر بیٹھا ہوتا ہوں اور کبھی اپنے پاؤں کی پشت پر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ۳۱۷ ۳۹۲ لد ۱۰ ۴۱۵ ۴۱۹ ۴۲۵ ۴۲۵ ۴۴۳ اگر کسی درویش کی حالت ہمیشہ ایک جیسی رہے تو وہ دونوں جہانوں سے ہاتھ جھاڑ اٹھے۔ انسان چاہے تو مسیح بن سکتا ہے اور چاہے تو یہودی خصائل اختیار کر سکتا ہے۔ ہر ایک اثر رکھتا ہے اگر تو لوگوں کے مرتبہ کا دھیان نہیں رکھتا تو ص کا مرتبہ اور مقا تو بے دین ہے۔ اگر چہ محبوب تک رسائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے ۔ خدا چاہے تو دشمن بھی بھلائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ نوجوانی کی فرصت تیس سال تک ہوتی ہے جب چالیس ہوئے سب بال و پر جھڑ جاتے ہیں۔ سفید بال مرگ کا پیغام لاتے ہیں ۔ یہ سعادت اپنے زور بازو سے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک وہ بخشنے والا خدا خو د عطا نہ کرے۔ ۴۵۵ اسرائیل میرا بیٹا ہے بلکہ میرا پہلوٹھا ہے۔