ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 491 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 491

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۱ جلد سوم آریوں کا یہ اصول ہے کہ جب انسان مرتا روح سے متعلق آریوں کے عقیدہ کارڈ ہے تو اس کی روح اندر سے نکل کر آکاش میں رہتی ہے رات کو اوس کے ساتھ مل کر کسی پتے یا گھاس پر پڑتی ہے وہ پتا یا گھاس کوئی کھا لیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ روح بھی کھالی جاتی ہے جو کہ پھر دوسری جاندار شے میں نمودار ہوتی ہے اب اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بچہ خلق اور خلق میں ماں اور باپ ہر دو سے حصہ لیتا ہے اور جیسے جسمانی حصہ لیتا ہے ویسے ہی روحانی بھی لیتا ہے تفاوت مراتب کے لحاظ سے تناسخ کی ضرورت کو ماننا غلطی ہے یہ تو ہر ایک جگہ پایا جاتا ہے نباتات میں بھی ہم تفاوت مراتب کو دیکھتے ہیں اور اسی طرح انسانوں میں بھی ہے۔ جس وہ لوگ آریوں کے دیگر عقائد جن قد بادشاہ اور راجہ میں اردو اور اس آرام کے ساتھ ایک مشقت عبادت کی نہ ملاویں گے تو وہ سخت عذاب پاویں گے۔ خدا نے بعض کو خود مشقت دے دی ہے اور بعض کو نہیں ۔ جو لوگ دنیا میں دولت رکھتے ہیں اور عیاشی اور فسق و فجور میں مبتلا ہیں ان سے حساب ہوگا جیسے ایک انسان سرد پانی پیتا ہے مگر اپنے بھائی کو نہیں دیتا تو سزا پاوے گا۔ جس حال میں کہ آگے جا کر سب کمی بیشی پوری ہو جاتی ہے تو پھر اعتراض کیا ہے ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں کہ خدا ہے ۔ کشف و کرامات کے منکر ہیں ۔ روح اور پر مانو کوا نادی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف جوڑ جاڑ پر میشر کرتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب روح اپنے صفات میں پرمیشر کا محتاج نہیں ہے اور نہ ذرات ( پر مانو) پر میشر کے محتاج ہیں تو پھر جوڑنے میں اس کی کیوں احتیاج ہوئی؟ بلکہ جیسے وہ اپنے وجود اور صفات میں خود بخود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپس میں جڑ نہ سکتے ہوں؟ جب ایک انسان کا بدن اپنا ہے، کپڑے اپنے ہیں تو پہننے کے واسطے دوسرے کی کیا ضرورت ہے؟ عیسائیوں کی طرح ان کے ہاتھ میں بھی اعتراض ہی اعتراض ہیں۔ اسلام پر کثرت ازدواج کا اعتراض کرتے ہیں حالانکہ کئی ہزار کرشن کی بیویاں تھیں ۔ ل البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۳ تا ۸۵