ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 490 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 490

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۰ جلد سوم پھر اس کے بعد روح کا ذکر چلا اور ایک شخص نے اس کے متعلق سوال کیا تو پیدائش کے اسرار حضور علیہ اسلام نے فرمایا کہ جس تھے نے پیدا ہونا ہوتا ہے تو روح کی استعداد اس تھے میں ساتھ ساتھ چلی آتی ہے۔ جیسے جیسے وہ تیار ہوتی جاتی ہے اور جب وہ عین لائق ہوتا ہے تو خدا اس پر فیضان کرتا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ (المؤمنون: ۱۵) میں نے ایک انڈے کو ایک دفعہ پیالی میں ڈالا ۔ دیکھا تو اس کی زردی اور سفیدی پانی کی طرح ہوئی ہوئی تھی اور اس کے درمیان میں ایک نقطہ خون کا خشخاش کے دانہ کی طرح تھا اور اس کی کئی تاریں کوئی کسی طرف کو اور کوئی کسی طرف کو نکلی ہوئی تھیں اور سوائے اس نقطہ کے اور کوئی حرکت اس میں نہ تھی تو میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ خلق اشیاء کا سلسلہ ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ اول سر بنا یا پھر ہاتھ پھر پاؤں وغیرہ بلکہ اس کی کارروائی یکساں ہوتی ہے اور سب کچھ پہلے ہی سے ہوتا ہے صرف نشوونما پاتا جاتا ہے میں نے بعض دائیوں کو کہا ہوا تھا کہ جو بچے اسقاط ہوا کریں تو دکھا یا کرو تو میں نے بعض بچے دیکھے ان کے بھی سب اعضا وغیرہ بنے بنائے تھے خدا کا یہ خلق معمار کی طرح نہیں ہوتا کہ اول دیواریں بنائیں پھر چوبارہ بنایا پھر اوپر اور کچھ بنایا بلکہ چار ماہ کے بعد جب روح کی تکمیل ہوتی ہے تو اس وقت انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ اس پر صادق آتا ہے تو بچہ حرکت کرنے لگتا ہے۔ جیسے دنیا کے سات دن ہیں یہ اشارہ اسی طرف ہے کہ دنیا کی عمر بھی تکمیل کے مراتب ستہ سات ہزار برس ہے اور یہ کہ خدا نے دنیا کو چھ دن میں بنا کر ساتویں دن آرام کیا اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ ہر ایک شے چھ مراتب ہی طے کر کے مرتبہ تکمیل کا حاصل کرتی ہے نطفہ میں بھی اسی طرح چھ مراتب ہیں کہ انسان اول سلسلہ میں طین ہوتا ہے پھر نطفه ، پھر عَلَقَه ، پھر مُضْغَه، پھر عِظَامًا ، پھر لَحْمًا، پھر سب کے بعد انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ باہر سے کچھ نہیں آتا بلکہ اندر ہی سے ہر ایک ھے نشو و نما ہوتی رہتی ہے۔