ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 489

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۹ جلد سوم رضوان اللہ اجمعین کی جماعت کہ ان کے تمام حجاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے رفع رعظیم الشان نشانوں سے خدا نے ان پر اپنی ہستی کو کھول دیا اور کامل معرفت ان کو ملی مگر بیہودہ ہوئے اور اور کیم فلسفیوں سے ہرگز ممکن نہیں کہ یہ ایمانی حالت ان کو نصیب ہو ۔ ہو۔ ایمان تو ایک چولہ بدل کر دوسرا اسے پہنا دیتا ہے اور اسے ایک فوق العادت طاقت دی جاتی ہے کوئی فلاسفر نہیں گذرا کہ جسے یہ طاقت ملی ہو۔ افلاطون وغیرہ بھی اس سے بے نصیب رہے پاکیزگی کی وراثت بجز انبیاء کے نہیں آئی اور فلسفیوں وغیرہ میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ دنیا کی مصنوعات میں زیادہ تر مشغول ہونے سے دین کے پہلو میں ضرور کمزوری ہوا کرتی ہے سچی بات یہی ہے کہ انسان لمبی صحبت میں رہے چند ایک نمونہ جب اسے مل جاتے ہیں تو پھر ٹھیک ہوجاتا ہے۔ خواب میں نماز پڑھنے اور شیرینی کھانے کی تعبیر میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ خوابوں کی تعبیر اس کے یعنی ہیں کہ خداتعالی کسی وقت چاہے گاتو نماز میں حلاوت عطا کرے گا۔ تبت یدا ابی لَهَپ خواب میں پڑھنے پر فرمایا کہ کسی دشمن پر فتح ہو گی ۔ فرمایا۔ خوابوں کی تعبیر ہر ایک کے حال کے مطابق ہوتی ہے خوابوں کی تعبیر ہر ایک کے حال کے موافق مختلف ہوا کرتی ہیں ایک دفعہ ابن سیرین کے پاس ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کوڑے کے ڈھیر پر ننگا کھڑا ہوں ۔ ابن سیرین نے کہا کہ اگر کوئی اور شخص کا فریا فاسق اس خواب کو بیان بیان کرتا تو میں اسکی اس کی تعبیراور تعبیر اور بیان کرتا مگر تو ت اس ا تعبیر کے کے لائق نہیں ہے اس لئے سن کہ کوڑے اور کھاد سے مراد تو دنیا ہے کہ جس میں تو موجود زندہ ہے اور ننگے ہونے سے دنیا مراد یہ ہے کہ تیرے صفات حسنہ سب لوگوں پر کھلے ہیں کیونکہ ننگا ہونے سے انسان کا سب ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح لوگ تیری خوبیاں دیکھ رہے ہیں تو مطلب اس سے یہ ہے کہ صالح آدمی کے خواب کی تعبیر اور ہوتی ہے اور شقی کی اور ۔