ملفوظات (جلد 3) — Page 488
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۷۷ جلد سوم ہوتی ۔ وہ اس ھے کو یہاں بیٹھے اس طرح دیکھتی ہے جیسے کہ کھلی روشنی میں ایک ھے نظر آتی ہے۔ اس پر نو وارد صاحب حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہے اور تعجب ظاہر کیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ خود ہم نے کئی دفعہ اس طرح دیکھا ہے کہ تین دیواریں درمیان میں حائل ہیں مگر ہم نے وہ شے دیکھ لی۔ خبر نہیں کہ اس وقت کیا ہوتا ہے دیوار مطلق رہتی ہی نہیں اور انہی آنکھوں سے اس وقت سب کچھ نظر آتا ہے۔ اس مقام پر حضرت اقدس نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک خاکروبہ نے ایک جگہ سے میلا اٹھایا اور اس کا ایک حصہ چھوڑ دیا۔ میں جو مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا مجھے نظر آیا کہ اس نے ایک حصہ چھوڑ دیا ہے تو میں نے اس خاکروبہ سے کہا۔ وہ سن کر حیران ہوئی کہ اس نے اندر بیٹھے کیسے دیکھ لیا میں نے اس پر خدا کا شکر کیا کہ یہ باوجود میلے کے سر پر لیا میں پر خدا کا یہ موجود ہونے کے نہیں دیکھ سکتی حالانکہ مجھے اس نے اس قدر دور دراز فاصلہ سے دکھلا دیا۔ نو وارد صاحب نے عرض کی کہ پھر یہ بات اور اس رؤیت روحانی کا کیسے پتہ لگے اور سمجھ میں آوے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ بہت دیر صحبت میں رہے تو سمجھ میں آ سکتا ہے اور اس کی نظیر یہ پیشگوئیاں بھی ہیں جو ہم کرتے ہیں کیونکہ جو علوم پیش از وقت خدا بتلاتا ہے وہ بھی تو ایک قسم کی دیوا کے پیچھے ہیں جو کہ درمیان میں حائل ہوتی ہے اور ایک عرصے کے بعد اس نے گرنا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ قبل از وقت دکھلا دیتا ہے اور اسی عالم میں یہ سب عجائبات ہیں ۔ کل یا پرسوں ایک نیچری کا خط آیا کہ میرے نزدیک تو انسان کے واسطے خدا شناسی ممکن ہی نہیں ہے تو بات یہی ہے کہ جب روحانی حصہ نہ ہوا۔ دیا جاوے تب تک کیا پتہ لگتا ہے۔ انسان کا خاصہ علم ہی ہے اگر علم نہ ہو تو صرف جسد ہی ہوا دو آدمی سعید ہوتے ہیں ایک تو وہ جن کا اللہ تعالیٰ بالذات رفع رفع حجاب کے دو طریق حجاب کرتا ہے اور اپنی خدائی طاقتوں سے اپنی ہستی ان پر کھول دیتا ہے۔ دوسرے وہ جو ایسے آدمیوں کی صحبت میں رہ کر ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ جیسے صحابہ کرام