ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 487

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۷ جلد سوم ہوتا ہے جب اس کے جنون کا علاج ہو تو فوراً وہ علم آجاتا ہے جیسے آگ پتھر میں مخفی ہوتی ہے کہ رگڑ سے تو ظاہر ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ یہی حال مجنون کا ہوتا ہے ہم خود دیکھتے ہیں کہ ایک بات کرتے کرتے ایک لفظ ایسا وقت پر بھول جاتے ہیں کہ ہر چند اس وقت یاد کریں مگر یاد نہیں آتا پھر دوسرے وقت خود ا ہی یاد آ : جاتا ہے ( گویا ایک وقت پر ایک بات کا علم نہ ہونے سے اس بات کا عدم علم ہرگز ثابت نہیں ہوتا ) تو مخفی ہونا اور شے ہے اور محو اور نابود ہونا اور شے ہے آج کل کے فلسفی لوگ ان باتوں میں سے بعض کو تو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے ( تو اب جیسے غیر مرئی ھے خدا اور روح ہے ویسے فرشتے ہیں ) مگر فرشتوں کو نہیں مانتے تو یہ ان کی حماقت ہے پھر جو روح کو مانتے ہیں کیا ہمیں دکھلا سکتے ہیں کہ روح کیا شے ہے۔ انسان اگر مرتا ہو تو خواہ اسے کسی لوہے کے قالب میں ہی بند کر دیویں کہ جس میں ہوا کا بھی دخل نہ ہو مگر پھر بھی مرتے وقت کوئی ایسی تھے نظر نہ آوے گی کہ ہم کہیں کہ اسی کا نام روح ہے اور کہاں سے جان نکلی تھی پھر اسی طرح انڈے میں کیا بتلا سکتے ہیں کہ کہاں سے روح داخل ہوتی ہے بعض دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ انڈے میں بچہ مرا ہوا ہوتا ہے گویا کہ روح داخل ہو کر پھر نکل بھی گئی اور نظر بھی کسی کو نہ آئی تو یہ ایک بھید ہے جس کی حقیقت کیا سمجھ میں آسکتی ہے ہر گز سمجھ نہیں آتی ۔ دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک انی اور ایک لیٹی ۔ کھوج نکال کر جاننا دلائل کی دو اقسام اس کا نام لیتی ہے اور انی یہ ہے کہ آثار سے پتہ لے لینا جیسے قارورہ کو دیکھ کر طبیب گرمی تپ وغیرہ کا حال معلوم کر لیتا ہے۔ یہ اتی ہے اور تپ وغیرہ دیکھ کر قارورہ کی نسبت کا سمجھ لینا بیر لیتی ہے۔ تو روح میں لیمیت ہم دریافت نہیں کر سکتے مگر آثار بتلاتے ہیں کہ ایک شے ہے تو اس طرح کے عجائبات کثیر ہیں ۔ اسی طرح ایک رؤیت آنکھ میں ہے ہر ایک تھے کو دیکھتی ہے مگر باطنی رؤیت ایک دیوار کے پیچھے ایک تھے ہوتو نہیں دیکھ سکتی۔ آنکھ کیوں نہیں ظاہری اور باضی دیوار کے پیچھے دیکھ سکتی ۔ اس کے دلائل کیا بیان ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک رؤیت روح میں ہے کہ بیٹھے بٹھائے دور تک دیکھ لیتی ہے خواہ تین چار دیواریں درمیان میں حائل ہوں مگر اسے پروا نہیں