ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 486

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۶ جلد سوم دوسرے کا زوال نعمت چاہنا لیکن جب اپنے نفس سے بالکل محوہو کر ایک مصلحت کے لئے دوسرے کا زوال چاہتا ہے تو اس وقت یہ ایک محمود صفت ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم تثلیث کا زوال چاہتے ہیں ۔ انسان کے اندر دو ملکہ خدا نے رکھے ہیں ایک فرشتہ اور ملائک اور شیطان کا عقلی ثبوت شیطان ۔ یہاں نو وارد صاحب نے سوال کیا کہ فرشتہ اور شیطان کا عقلی ثبوت کیا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کے قومی میں نیکی کی طرف کبھی حرکت ہوتی ہے اور کبھی بدکاری کی طرف ہوتی ہے یا نہیں؟ نو وارد صاحب نے کہا کہ ہاں ۔ پھر فرمایا کہ کبھی بھو کے انسان کو دیکھ کر رحم بھی آجاتا ہے اور رحم کی تحریک ہوتی ہے؟ نو وارد صاحب نے کہا کہ ہاں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جب تحریک ہوتی ہے تو محرک کوئی اندر ہے جو تحریک کرتا ہے کیونکہ تحریک کے لئے محرک کا ہونا ضروری ہے اور انسان خود اس کا محرک نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو حالت مفعول میں ہے تو پھر فاعل کیسے ہوگا ( کیونکہ تحریک کا عمل اس پر ہوتا ہے اس لئے انسان مفعول ہے ) تو اس نیکی کے محرک کو ہم فرشتہ اور بدی کے محرک کو شیطان کہتے ہیں۔ شریعت کا علم بہر حال ہم سے بڑھ کر ہے جن امور کے ہم زیر اثر ہیں شریعت نے ان کی تفصیل کر دی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم نہ مانیں یہ سب کچھ انسان کو محسوس ہوتا ہے اور ابھی آپ نے تسلیم کیا ہے۔ اسی طرح مرنے کے بعد ایک ھے رہتی ہے آپ اسے مانتے ہیں اس کا نام روح ہے اسے علم بھی ہوتا ہے کہ انسان کتاب یاد کرتا ہے اگر اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس کے اس علم میں کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہے کہ علم صفت روح کی ہے نہ کہ جسم کی ۔ ورنہ ضرور تھا کہ ہاتھ کاٹنے سے اس کے علم میں فرق آجاتا۔ اب ایک دہر یہ جو کہ روح کا قائل نہیں ہے اس کے نزدیک تو پھر جسم کا حصہ کاٹنے سے علم کا کچھ حصہ ضرور جاتا رہتا اگر کہو کہ مجنون بھول جاتا ہے تو یہ بات غلط ہے مجنون ہرگز بھولتا نہیں ہے بلکہ ہر ایک شے کا علم اس کے اندر مخفی