ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 485

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٢٧ جلد سوم خلق ہے اور عوام الناس میں آج کل جسے خُلق کہا جاتا ہے جیسے ایک شخص کے ساتھ تکلف کے ساتھ پیش آنا اور تصنع سے اس کے ساتھ ظاہری طور پر بڑی شیریں الفاظی سے پیش آنا تو اس کا نام خلق نہیں ہے بلکہ نفاق ہے۔ خلق سے مراد یہ ہے کہ اندرونی قومی کو اپنے اپنے مناسب مقام پر استعمال کیا جاوے جہاں شجاعت دکھانے کا موقع ہے وہاں شجاعت دکھاوے جہاں صبر دکھانا ہے وہاں صبر دکھاوے۔ جہاں انتظام چاہیے وہاں انتقام لیوے۔ جہاں سخاوت چاہیے وہاں سخاوت کرے یعنی ہر ایک محل پر ہر ایک قوم کو استعمال کیا جاوے نہ گھٹا یا جاوے نہ بڑھا یا جاوے۔ یہاں تک کہ عقل اور غضب بھی جہاں تک کہ اس سے نیکی پر استعانت لی جاوے خُلق ہی میں داخل ہے اور صرف ظاہری حواس کا نام ہی حواس نہیں ہے بلکہ انسان کے اندر بھی ایک قسم کے حواس ہوتے ہیں۔ ظاہری حواس تو حیوانوں میں بھی ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا، دیکھنا ، چھونا وغیرہ مگر اندرونی حواس انسانوں میں ہی ہوتے ہیں مثلاً اگر ایک بکری گھاس کھا رہی ہو اور دوسری بکری آجاوے تو پہلی بکری کے اندر یہ ارادہ پیدا نہ ہوگا کہ اسے بھی ہمدردی سے گھاس کھانے میں شریک کرے۔ اسی طرح شیر میں اگر چہ زور اور طاقت تو ہوتی ہے مگر ہم اسے شجاع نہیں کہہ سکتے کیونکہ شجاعت کے واسطے محل اور بے محل دیکھنا بہت ضروری ہے انسان اگر جانتا ہے کہ مجھ کو فلاں شخص سے طاقت مقابلہ کی نہیں ہے یا اگر میں وہاں جاؤں گا تو قتل ہو جاؤں گا تو اس کا وہاں نا جانا ہی شجاعت میں داخل ہوگا اور پھر اگر محل اور موقع کے لحاظ سے مناسب دیکھے کہ میرا وہاں جانا ضروری ہے خواہ جان خطرہ میں پڑتی ہو تو اس مقام پر جانے کا نام شجاعت ہے۔ میرا جانا ہوتو نام جاہل آدمیوں سے جو بعض وقت بہادری کا کام ہوتا ہے حالانکہ ان کو محل بے محل دیکھنے کی تمیز نہیں ہوتی اس کا نام تہو رہوتا ہے کہ وہ ایک طبعی جوش میں آجاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ کام کرنا چاہیے تھا کہ نہیں ۔ غرضیکہ انسان کے نفس میں یہ سب صفات مثل صبر ، سخاوت، انتقام، ہمت، بخل، عدم بخل، حسد، عدم حسد ہوتے ہیں اور ان کو اپنے محل اور موقع پر صرف کرنے کا نام خُلق ہے حسد بہت بری بلا ہے لیکن جب موقع کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جاوے تو پھر بہت عمدہ ہو جاوے گا۔حسد کے معنی ہیں