ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 41

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱ جلد سوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تعلق تدٹی کا تھا اس کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ جس قدر سمجھتا تھا اس کو کسی دوسرے نے ہر گز نہیں سمجھا۔ نہ حضرت ابوبکر نے اُسے سمجھا نہ حضرت علی نے اور نہ کسی اور نے ۔ آپ کا انقطاع تام اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور مخلوق کو مرے ہوئے کیڑے سے پیچ سمجھنا ایک ایسا امر تھا جو دوسروں کو نظر نہ آسکتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی تائیدوں کو دیکھ کر لوگ یہ نتیجہ ضرور نکالتے تھے کہ جیسا خدا تعالیٰ سے سچا اور قوی تعلق اُس نے پیدا کیا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ نے بھی اس سے کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ کیسی عظیم الشان بات ہے کہ آپ کو قرآن کریم اور انجیل کی تعلیمات کا موازنہ کوئی مقام ذلت کا کبھی نصیب نہیں ہوا مقام ذلت کا بلکہ ہر میدان میں آپ ہر طرح معزز و مظفر ثابت ہوئے ہیں لیکن بالمقابل اگر مسیح کی حالت کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کیسی ذلت پر ذلت نصیب ہوئی ہے۔ بسا اوقات ایک عیسائی شرمندہ ہو جاتا ہوگا جب وہ اپنے اس خدا کی حالت پر غور کرتا ہوگا جو انہوں نے فرضی اور خیالی طور پر بنایا ہوا ہے۔ مجھے ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوئی ہے کہ عیسائی اس تعلیم کو جو انجیل میں بیان ہوئی ہے اور اس خدا کو جس کے واقعات کسی قدر انجیل سے ملتے ہیں رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے ترجیح کیوں کر دیتے ہیں مثلاً یہی تعلیم ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دو۔ اب اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرو پر تو صاف نظر آجائے گا کہ یہ کیسی بودی اور علمی تعلیم ہے۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اُن سے بچے خوش ہو جاتے ہیں بعض سے متوسط درجے کے لوگ اور بعض سے اعلیٰ درجہ کے لوگ ۔ انجیل کی تعلیم صرف بچوں کا کھلونا ہے کہ جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو اس قدر قوطی عطا فرمائے ہیں ان سب کا موضوع اور مقصود یہی ہے کہ وہ طمانچے کھایا کرے؟ انسان انسان تب ہی بنتا ہے کہ وہ سارے قومی کو استعمال کرے ، مگر انجیل کہتی ہے کہ سارے قومی کو بریکار چھوڑ دو اور ایک ہی قوت پر زور دیئے جاؤ۔ بالمقابل قرآن شریف تمام قوتوں کا مربی ہے اور برمحل ہر قوت کے استعمال کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ مسیح کی اس تعلیم کے بجائے قرآن شریف فرماتا ہے جَزُوا سَيِّئَة سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ (الشوری: ۴۱) یعنی بدی کی سزا تو اسی قدر بدی ہے مگر عفو بھی کرو تو