ملفوظات (جلد 3) — Page 40
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد۔ جلد سوم کی اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل نہ ہو اور اس درجہ اور مقام پر انسان نہ پہنچ جاوے جو دنیا ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی حقیر اور ذلیل نظر آوے اور اللہ تعالیٰ ہی ہر قول و فعل میں مقصود ہو اس مقام پر قدم نہیں پڑ سکتا جہاں پہنچ کر انسان اپنے اللہ کی آواز سنتا ہے۔ اور وہ آواز حقیقت میں اسی کی ہوتی ہے کیونکہ اس وقت یہ تمام نجاستوں سے پاک ہو گیا ہوتا ہے۔ غرض نری آوازیں اور چند رسمی کتابوں کے پڑھ لینے سے فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ فیصلہ کی اصل اور سچی راہ وہی ہے جس کو تائیدات الہیہ کہتے ہیں ۔ اُن سے ہی فیصلہ ہوتا ہے اور خدا ہی کا حربہ فیصلہ کرتا ہے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور ایسے مقام پر کھڑا ہے جو نجاست سے بالکل الگ ہے وہ وہی پاک آواز میں سنتا ہے جو حضرت موسیٰ ، حضرت عیسی ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام نے سنیں اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو سنا تھا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان آوازوں کی صداقت اور عملی ظہور کے لیے انسانی ہاتھوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود خدا تعالیٰ ان کی چمکار دکھاتا ہے۔ اگر چہ یہ بہت ہی بار یک باتیں ہیں جو معرفت کے اسرار میں داخل ہیں ۔ تا ہم خوشبو اور بد بو اپنے مختلف نظاروں سے شناخت کی جاسکتی ہے۔ اچھے درخت کو کئی طرح پہچان لیتے ہیں۔ پتوں سے بھی شناخت کر لیتے ہیں۔ میں نے ایک بار الائچی کا درخت انبالہ میں دیکھا اور ایک پتا اس کا لے کر سونگھا تو اس میں الائچی کی خوشبو موجود تھی اگر چہ ابھی اس کے تین درجے باقی تھے مگر خوشبو موجود تھی ۔ دانش مند انسان بہت سے قرائن سے امر واقعی کو معلوم کر لیتا ہے۔ خباثت بھی ہزاروں پر دوں میں چھپی رہتی ہے اور تقوی بھی ہزاروں پردوں میں مخفی رہتا ہے مگر اُن کے آثار اور قرائن سے بخوبی پتہ لگ سکتا ہے۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے کوئی آدمی عین بدکاری کی حالت میں پکڑا جاوے تو اسے بہت ہی شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ایک متقی جب اپنے تقویٰ کے سیر و عبادت میں مصروف ہو اور کوئی اجنبی اس پر گزرے تو اس کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ شرمندگی کے موجبات تو ایک ہی ہیں ۔ بدکار اپنی بدکاری کو امر مستور رکھنا چاہتا ہے اور متقی اپنے تقویٰ کو ۔ غرض تقومی کے امور بہت پوشیدہ ہوتے ہیں بلکہ اصل تو یہ ہے کہ اس سر کی ملائکہ کو بھی خبر نہیں ہوتی ۔ پھر دوسرے کو کیسے اطلاع مل سکتی ہے۔