ملفوظات (جلد 3) — Page 42
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲ جلد سوم ایسا عفو کہ اس کے نتیجہ میں اصلاح ہو، وہ عفو بے محل نہ ہو مثلاً ایک فرمانبردار خادم ہے اور کبھی کوئی خیانت اور غفلت اپنے فرض کے ادا کرنے میں نہیں کرتا ۔ مگر ایک دن اتفاقاً اس کے ہاتھ سے گرم چاء کی پیالی گر جاوے اور نہ صرف پیالی ہی ٹوٹ جاوے بلکہ کسی قدر گرم گرم چاء سر پر بھی پڑ جاوے تو اس وقت یہ ضروری نہیں کہ آقا اس کو سزا دے بلکہ اس کے حسب حال سزا یہی ہے کہ اس کو معاف کر دیا جاوے۔ ایسے وقت پر موقع شناس آقا تو خود شرمندہ ہو جاتا ہے کہ اس بیچارے نوکر کو شرمندہ ہونا پڑے گا لیکن کوئی شریر نو کر اس قسم کا ہے کہ وہ ہر روز نقصان کرتا ہے اگر اس کو عفو کر دیا جائے تو وہ اور بھی بگڑے گا۔ اس کو تنبیہ ضروری ہے۔ غرض اسلام انسانی قومی کو اپنے اپنے موقع اور محل پر استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور انجیل اندھا دھند ایک ہی قوت پر زور دیتی چلی جاتی ہے۔ ع گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی غرض حفظ مراتب کا مقام قرآن شریف نے رکھا ہے کہ وہ عدل کی طرف لے جاتا ہے۔ تمام احکام میں اس کی یہی صورت ہے۔ مال کی طرف دیکھو نہ ممسک بناتا ہے نہ مُسرف۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت کا نام ہی اُمَّةً وَسَطًا رکھ دیا گیا۔ پھر دوسری قابلِ غور بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سیح علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانتا ہے مگر جس تقرب کو دیکھنا چاہیے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ بادشاہ کے دل کی بات تو بادشاہ ہی جانتا ۔ پر وہ اسرار ظاہر کرتا ہے یا اپنی رضا مندی کے آثار جس پر دکھاتا ہے ضروری ہے کہ ہم اس کو مقرب ! پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو آپ کے قرب کا مقام وہ نظر آتا ہے جو کسی دوسرے کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔ وہ عطایا اور نعماء جو آپ کو دیئے گئے ہیں سب سے بڑھ کر ہیں اور جو اسرار آپ پر ظاہر ہوئے اور کوئی اس حد تک پہنچا ہی نہیں ۔ قرآن شریف ہی کو دیکھ لو کہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئیاں اس میں موجود ہیں ۔ حضرت مسیح کا مجھے بارہا خیال آتا ہے کہ یہ نادان عیسائی کس شیخی ۔ شیخی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اُن کا مقابلہ کرنے بیٹھتے ہیں ۔ حضرت مسیح کا تو