ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 479

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۹ جلد سوم نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا کہ تا ایمانداروں اور جلد بازوں میں امتیاز ہو۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اسے جو کچھ قیامت کو کرنا ہے وہ اسی دنیا میں کر کے دکھا سکتا تھا۔ کیونکہ وہ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة : ۲۸۵) ہے مگر پھر ایمان ایمان نہ رہتا اور نہ اس کے ثمرات میسر ہوتے جو لوگ ایمان کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اس کو نہیں سمجھ سکتے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں ایمان کی حقیقت کچھ نہ کچھ مخفی رہنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے مِنْهُم شَقِی وَسَعِيدُ (هود: ١٠٦) یہ دونوں فریق اسی سے بنتے ہیں سعید جلد بازی نہیں کرتے بلکہ حُسنِ ظن اور صبر سے کام لے کر ایمان لاتے ہیں اور جوشقی ہوتے ہیں وہ جلد بازی سے کام لے کر اعتراض کرتے ہیں جو لوگ منہاج نبوۃ کو نہیں چھوڑتے وہ ٹھو کر نہیں کھاتے اور کوئی ایسا اعتراض نہیں کرتے۔ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ مجھ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا جو پہلوں پر نہ ہوا ہو۔ جو کوئی مجھ پر اعتراض کرے گا وہ دین سے خارج ہو کر اعتراض کرے گا ۔ عرب صاحب نے حضرت حجۃ اللہ کے جذب کا تذکرہ کیا اور کہا کہ میں ۱۸۹۴ء میں لاہور آیا۔ جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھے ایک کتاب آپ کی تصدیق میں اور ایک مولوی نے آپ کی تردید میں دی مگر میں نے دونوں وہیں کسی کو دے دیں اور پروانہ کی ۔ مجھے کہا گیا کہ قادیان آؤں مگر میں نہ آیا اور اب خدا کی شان ہے کہ وہ اس قدر فاصلہ (رنگون ) سے مجھے لایا اور اس قدر خرچ کثیر کے بعد مجھے آنا پڑا ۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ میں معرفتِ الہی سے نماز میں ذوق پیدا ہوتا ہے نماز پڑھتا ہوں مگر دل نہیں ہوتا ۔ فرمایا۔ جب خدا کو پہچان لوگے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے۔ دیکھو! یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ خواہ کوئی ادنی سی بات ہو جب اس کو پسند آجاتی ہے تو پھر دل خواہ نخواہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اسی طرح پر جب انسان اللہ تعالیٰ کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کے حسن واحسان کو پسند کرتا ہے تو