ملفوظات (جلد 3) — Page 480
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٠٧ جلد سوم دل بے اختیار ہو کر اسی کی طرف دوڑتا ہے اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے اصل نماز وہی ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے اس زندگی کا مزہ اسی دن آ سکتا ہے جبکہ سب ذوق اور شوق سے بڑھ کر جو خوشی کے سامانوں میں مل سکتا ہے تمام لذت اور ذوق دعا ہی میں محسوس ہو۔ یا د رکھو کوئی آدمی کسی موت وحیات کا ذمہ وار نہیں ہو سکتا خواہ رات کو موت آجاوے یا دن کو ۔ جو لوگ دنیا سے ایسا دل لگاتے ہیں کہ گویا کبھی مرنا ہی نہیں وہ اس دنیا سے نامراد جاتے ہیں وہاں ان کے لئے خزانہ نہیں ہے جس سے وہ لذت اور خوشی حاصل کر سکیں۔ انسان جس لذت کا خو گرفتہ اور عادی ہو جب وہ اس سے چھڑائی جہنم و جنت کی حقیقت جاوے تو وہ ایک دکھ اور در محسوس کرتا ہے اور یہی جہنم ہے پس جبکہ ساری لذتیں دنیا کی چیزوں میں محسوس کرنے والا ہو تو ایک دن یہ ساری لذتیں تو چھوڑنی پڑیں گی پھر وہ سیدھا جہنم میں جاوے گا۔ لیکن جس شخص کی ساری خوشیاں اور لذتیں خدا میں ہیں اس کو کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہو سکتی وہ اس دنیا کو چھوڑتا ہے تو سیدھا بہشت میں ہوتا ہے۔ ا اصل بات یہ ہے کہ دل اللہ کے اختیار میں ہے وہ جس دل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں وقت چاہتا ہے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے اور اس ہے اور کو سمجھ آجاتی ہے کہ سچا سرور اور خوشحالی اس میں ہے کہ خدا کو پہچانا جاوے دیکھو! میں اس وقت یہ بات تو کر رہا ہوں مگر میرے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ دلوں تک اس کو پہنچا بھی دوں یہ خدا ہی کا کام ہے جو دلوں کو زندہ کرتا ہے اور بیدار کرتا ہے۔ باقی تمام جوارح آنکھ ، ہاتھ ، وغیرہ ایسے ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں ۔ مگر دل اس کے اختیار میں نہیں ہے اس وقت تک اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھنا چاہیے جب تک دل مسلمان نہ ہو جاوے اور دل مسلمان نہیں ہوتا جب تک وہ لہو ولعب سے لذت حاصل کرتا ہے اس کے مسلمان ہونے کا وہی وقت ہے جب وہ دنیوی حیثیت سے دل برداشتہ ہو گیا ہے اور دنیا کی لذتیں اور خوشیاں ایک تلخی کا رنگ دکھائی دیتی ہیں جب یہ حالت ہو تو پھر انسان اپنے آپ کو