ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 477

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۷ جلد سوم مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے اٹھ کر اصل واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں گزارش کیا اور خود اس خادم نے بھی عرض کی جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اوائل میں جماعت میں ایسی بات ہوا کرتی ہے اسی طرح جب پیغمبر خدا مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے کچھ زمین ایک صحابی سے خریدنی چاہی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے لڑکوں کے لئے رکھی ہے حالانکہ سب کچھ تو آپ کے ہاتھ پر فروخت کر چکا ہوا تھا لیکن آخر وہی اصحاب تھے کہ جنہوں نے سب دینی ضرورتوں کو مقدم رکھا اور اپنی جانوں تک کو قربان کر دیا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہمیشہ خیال رکھے کہ بعض امور تو سمجھ میں آسکتے ہیں اور بعض نہیں آسکتے تو جو سمجھ میں نہ آیا کریں ان کو پس پشت نہ کیا جاوے وہ دریافت کر لینے چاہئیں۔ نیکی اسی کا نام ہے ورنہ حبط اعمال ہو جاتا ہے یہ ہمارا معاملہ اور کاروبار سب خدا کا ہے ہمارے نفس کو اس میں دخل نہیں ہم نے اس خطا کو بخشا اور معاف کیا۔ L ۲۸ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبه (بوقت ظهر ) مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک احمدی ہر ایک ہلاکت کی راہ سے پر ہیز کیا جائے بھائی کی طرف حضرت اقدس اقدس کی توجہ دلائی دلائی کہ جن کے دانت میں کرکٹ کھیلنے سے ضرب آگئی تھی اور نیچے کا لب بالکل پھٹ گیا تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ دیدہ دانستہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا جاتا ہے اس جگہ کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ ہر قسم کے شر اور بدعت میں اپنے آپ کو ڈالا جاوے بلکہ یہ کہ ہر ایک ہلاکت کی راہ سے پر ہیز کیا جاوے۔ لیاقت علمی اور شئے ہے۔ کیا اگر انسان کو کوئی کھیل نہ آتی ہو تو اس کی لیاقت میں فرق آوے گا ایک قسم ۔ جن لوگوں کی یہ کھیل ایجاد ہے وہ تو مست ہیں ان کو تلف جان کی پروا نہیں مگر ہمیں تو پر وا ہے۔ البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۲