ملفوظات (جلد 3) — Page 476
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۶ جلد سوم عرض کی کہ دربار دہلی پر جو میموریل روانہ کرنا ہے وہ طبع ہو کر آ گیا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم دیا کہ اسے کثرت سے تقسیم کیا جاوے کیونکہ اس سے ہماری جماعت کی عام شہرت ہوتی ہے اور ہمارے اصولوں کی واقفیت اعلیٰ حکام کو ہوتی ہے اور ان کی اشاعت ہوتی ہے۔ ( بوقت عصر ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ایک پادری کی تصنیف اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے حضور کو خبر دی گئی کہ ایک پادری صاحب بنام گر سفورڈ نے ایک کتاب اپنے زعم میں آپ کے دعاوی کی تردید میں لکھی ہے اس کا نام رکھا ہے ” میرزا غلام احمد قادیان کا مسیح اور مہدی، مگر حضور کے دعوے اور دلائل کو خوب مفصل بیان کیا ہے اور اس کی اشاعت امریکہ میں بہت کی گئی ہے اس پر ذکر ہوتا رہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اشاعت کا ذریعہ بنایا ہے اس کی وہی مثال ہے کہ ع حضرت اقدس نے فرمایا کہ عدو شود سبب خیر گر خدا خواهد پھر تو ہم کو بھی ضرور لکھنا چاہیے جب انہوں نے بطور ہدیہ کے کتاب ہمیں بھیجی تو ہمیں بھی ہدیہ بھیجنا چاہیے یہ خدا کے کام ہیں۔ مخالفوں کی توجہ سے بہت کام بنتا ہے میں نے آزمایا ہے کہ جہاں مخالف ٹھوکر کھاتا ہے وہاں ہی ایک بڑی حکمت کی بات ہوتی ہے۔ حسب دستور بعد ادائے نماز مغرب جو بات سمجھ نہ آئے دریافت کر لینی چاہیے حضرت اقدس قبل ا چاہیے حضرت اقدس قبل از نماز عشاء تشریف لائے۔ ایک خادم کی نسبت ایک شخص کو غلط نہی ہوئی تھی کہ اس نے نعوذ باللہ حضرت کے کسی فعل پر اعتراض کیا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جب اس بیچار بیچارے کو خبر ہوئی تو اس ۔ و اس نے مولانا مولوی عبد الکریم صاحب ا کی خدمت میں آکر اصل واقعہ بتلایا اور عرض کی کہ راوی کو غلط نہی ہوئی ہے ورنہ میرا ایمان ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر ایک فعل ، فعلِ الہی ہے جس پر اعتراض کرنا سخت درجہ کا کفر اور ضلالت ہے