ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 475

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۵ جلد سوم اس کو محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ اگر وہ ان محسوسات میں سے ہوتا جن کے لئے یہ حواس ہیں تو بے شک وہ نظر آجاتا یا محسوس ہو سکتا مگر ان حواس : نگران حواس میں سے کوئی حس اس کے لئے بکار نہیں۔ اس کی شناخت کے خاص وسائل ہیں اور اور حواس ہیں گو حکیموں، برہموؤں اور فلاسفروں نے بجائے خود ٹکریں ماری ہیں لیکن وہ سب غلطیوں میں مبتلا ہیں اور وہ ایمان جو انسان کی زندگی میں ایک حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ان کو نصیب نہیں ہوا جب خود ان کی یہ حالت ہے تو وہ دوسروں کے لئے ہادی اور رہنما کیوں کر ہو سکتے ہیں ہیں ؟ جو خود مشکلات میں مبتلا ہیں اور جن کو خود سکینت اور اطمینان نصر نصیب سیب نہ ہو وہ اوروں کے لئے کیا اطمینان کا موجب ہوں گے۔ اس سلسلہ کی راہ کے چراغ دراصل انبیاء علیہم السلام ہیں۔ پس جو شخص چاہتا ہے کہ وہ نو را ایمان حاصل کرے اس کا فرض ہے کہ اس راہ کی تلاش کرے اور اس پر چلے بدوں اس کے ممکن نہیں کہ وہ وہ معرفت اور سچا گیان مل سکے جوگناہ جو گناہ سے بچاتا ہے ہے اور اور ہرایک ہر ایک شخص فیصلہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس تھے کا متبوع اس وقت حقیقی ایمان اور گیان پیدا کر دیتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب انسان سچائی پر قدم مارنے لگتا ہے تو اس کو مشکلات اور ابتلا پیش آتے ہیں برادری اور قوم کا ڈرا سے دھمکاتا ہے لیکن اگر وہ فی الحقیقت سچائی سے پیار کرتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے تو وہ ان ابتلاؤں سے نکل جاتا ہے ورنہ ابتلا اس کا نفاق ظاہر کر دیتا ہے۔ مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ دیوانہ بنے کسی ننگ و عار کی سچائی کے لئے پروانہ کرے جب تک وہ ان قیود کا پابند ہے وہ مومن نہیں ہو سکتا۔ از عمل ثابت کن آں نوری که در ایمان تست ه دل چو دادی یوسفی را راہِ کنعاں را گزیں ۲۷/دسمبر ۱۹۰۲ء بروزشنبه (بوقت : ظهر ) او اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے دربار دہلی کے موقع پر میموریل کی اشاعت تو مرادی عمر علی صاحب ایم اے نے تو مولوی محمد صاحب ایم ۔ الحکم جلدے نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۴ تا ۶