ملفوظات (جلد 3) — Page 474
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۴ جلد سوم یقین کے بغیر ثمرات ظاہر نہیں ہو سکتے دیکھو جن خطرات کا انسان کو یقین ہوتا ہے ان کے نزدیک ہرگز نہیں جاتا مثلاً یہ خطرہ ہو کہ گھر کا شہتیر ٹوٹا ہوا ہے تو وہ کبھی اس کے نیچے جانے اور رہنے کی دلیری نہ کرے گا یا یہ معلوم ہو کہ فلاں مقام پر سانپ رہتا ہے اور وہ رات کو پھر ا بھی کرتا ہے تو کبھی یہ رات کو اٹھ کر وہاں نہ جائے گا کیونکہ اس کے نتائج کا قطعی اور یقینی علم رکھتا ہے پس اگر خدا کو مان کر ایک پیسہ کے سنکھیا جتنا بھی اثر اور یقین نہیں ہوتا تو سمجھ لو کہ کچھ بھی نہیں مانتا اور اصل یہ ہے کہ ساری خرابی کی جڑھ گیان کی کوتاہی ہے۔ پنڈت صاحب ۔ میرا اصل منشا تو یہ ہے کہ خدا کی ہستی پر تو ایمان ہے مگر پھر بھی گناہ ہوتے ہیں ۔ حضرت اقدس ۔ آپ کیوں کہتے ہیں کہ ایمان ہے ۔ ایمان تو انسان کے نفسانی جذبات کو مردہ کر دیتا ہے اور گناہ کی قوتوں کو سلب کر دیتا ہے۔ آپ کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ گناہ سے بچنے کا علاج کیا ہے؟ میں یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ ایمان بھی ہو اور گناہ بھی ہو۔ ایمان روشنی ہے اس کے سامنے گناہ کی ظلمت رہ نہیں سکتی بھلا یہ کبھی ہو سکتا ہے کہ دن بھی چڑھا ہوا ہو اور رات کی تاریکی بھی بدستور موجود ہو یہ نہیں ہو سکتا۔ پس اصل سوال یہ رہ جاتا ہے کہ گناہ سے کیوں کر بچیں اس کا علاج وہی ہے جو میں نے بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا ہو۔ پنڈت صاحب ۔ بے شک میرا یہ کہنا کہ خدا کو مانتا ہوں اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔ حضرت اقدس ۔ پس یہی اصل بات ہے جب تک عملی شہادتیں ساتھ نہ ہوں یہ نفس کا دھوکا ہے جو کہتا ہے کہ مانتا ہوں سچا ایمان گناہ کو باقی نہیں رہنے دیتا اور سچا ایمان پیدا کیوں کر ہوتا ہے؟ آپ یا درکھیں جو مریض طبیب کے پاس جاتا ہے تو طبیب اس کی مرض کو تشخیص کر کے ایک علاج اس کا بتا دیتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ بیمار کو متنبہ کر دے علاج کرنا نہ کرنا یہ مریض کا اپنا اختیار ہے وہ یہ بتا دے گا کہ داغ لگانے کی جگہ ہے تو داغ دو یا جونک لگا ؤ وغیرہ یعنی جو علاج ہو وہ بتا دے گا اسی طرح پر ہم اصل علاج بتا دیتے ہیں کرنا نہ کرنا ہر شخص کے اپنے اختیار میں ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ جیسے خدا تعالیٰ ان آنکھوں سے نظر نہیں آتا ہے اور نہ ان حواس سے ہم