ملفوظات (جلد 3) — Page 473
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۳ جلد سوم دیکھا جاوے تو کہنا پڑے گا کہ وہ نرا دعوی ہے جس کے ساتھ عملی شہادت کوئی نہیں ۔ انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہے کہ وہ جس چیز پر یقین لاتا ہے اس کے نقصان سے بچنے اور اس کے منافع کو لینا چاہتا ہے دیکھو! سنکھیا ایک زہر ہے اور انسان جبکہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ اس کی ایک رتی بھی ہلاک کرنے کو کافی ہے تو کبھی وہ اس کو کھانے کے لئے دلیری نہیں کرتا اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے پھر کیوں وہ خدا تعالیٰ کو مان کر ان نتائج کو پیدا نہیں کرتا جو ایمان باللہ کے ہیں۔ اگر سنکھیا کے برابر بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو تو اس کے جذبات اور جوشوں پر موت وارد ہو جاوے مگر نہیں ۔ یہ کہنا پڑے گا کہ نرا قول ہی قول ہے ایمان کو یقین کا رنگ نہیں دیا گیا ہے یہ اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے اور دھوکا کھاتا ہے جو کہتا ہے کہ میں خدا کو مانتا ہوں ۔ پس پہلا فرض انسان کا یہ ہے کہ وہ اپنے اس ایمان کو درست کرے جو وہ اللہ پر رکھتا ہے یعنی اس کو اپنے اعمال سے ثابت کر دکھائے کہ کوئی فعل ایسا اس سے سرزدنہ ہو جو اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے احکام کے خلاف ہو۔ یہ دھو کا جو انسان کو لگتا ہے کہ وہ خدا کو مانتا ہے باوجود یکہ عملی شہادت اس ایمان کے ساتھ نہیں ہوتی در حقیقت یہ بھی ایک قسم کی مرض ہے جو خطرناک ہے۔ مرض دو قسم کی ہوتی ہے ایک مرض مختلف ہوتی ہے یہ وہ ہوتی ہے جس کا درد محسوس ہوتا ہے جیسے دردسر یا درد گردہ وغیرہ ۔ دوسری قسم کی مرض مرض مستوی کہلاتی ہے اس مرض کا درد محسوس نہیں ہوتا اور اس لئے مریض ایک طرح اس کے علاج کا سے تساہل اور غفلت کرتا ہے جیسے برص کا داغ ہوتا ہے بظاہر اس کا کوئی درد یا دکھ محسوس نہیں ہوتا لیکن آخر کو یہ خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے پس خدا پر ایسا ایمان جو عملی شہادتیں ساتھ نہیں رکھتا ہے ایک قسم کی خدا پر رکھتا ہے مرض مستوی ہے۔ صرف رسم و عادت کے طور پر مانتا ہے یا یہ کہ باپ دادا سے سنا تھا کہ کوئی خدا ہے اس لئے مانتا ہے اپنی ذات پر محسوس کر کے کب اس نے اس کا اقرار کیا۔ یہ اقرار جس دن اس رنگ میں پیدا ہوتا ہے ساتھ ہی گناہوں کے میل کچیل کو جلا کر صاف کر دیتا ہے اور اس کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں جب تک آثار ظاہر نہ ہوں وہ ماننا نہ ماننا برابر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ یقین نہیں ہوتا اور