ملفوظات (جلد 3) — Page 472
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۲ جلد سوم گناہوں سے بچتا ہے تو وہ کسی طمع یا خوف سے نہیں بلکہ اسی محبت ذاتی کے تقاضے سے۔ محبت ذاتی کا یہ نشان ہے کہ اگر محبت ذاتی والے کو یہ بھی معلوم ہو جاوے کہ اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو بجائے بہشت کے دوزخ ملے گا یا اسے معلوم ہو کہ ان پر کوئی نتیجہ مرتب نہ ہوگا اور بهشت دوزخ کوئی چیز ہی نہیں جس کے خوف یا جس کی طمع کے لئے وہ احکام کی بجا آوری کرے تب بھی اس کی محبت میں کوئی فرق نہ آئے گا کیونکہ یہ خوف اور رجا کے پہلوؤں کو دور کر کے فطرت کا رنگ پیدا کرتی ہے۔ محبت ذاتی کا یہ خاصہ ہے کہ جب انسان کے اندر نشو و نما پاتی ہے تو ایک آگ پیدا کر دیتی ہے جو اندر کی نجاستوں کو جلا کر صاف کرتی ہے یہ آگ ان نجاستوں کو جلاتی ہے جن کو بیم ورجا جلا نہ سکتے تھے۔ پس یہ مقام انسان کے لئے تکمیل کا مقام ہے اور اس جگہ تک اسے پہنچنا ضروری ہے۔ پنڈت صاحب ۔ میں خدا کا منکر نہیں ہوں اور نہ اس کے بندہ ہونے کا منکر ۔ حضرت اقدس ۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان دو قسم کا ہے ایک وہ ایمان ہے جو صرف زبان تک محدود ہے اور اس کا اثر افعال اور اعمال پر کچھ نہیں ۔ دوسری قسم ایمان باللہ کی یہ ہے کہ عملی شہادتیں اس کے ساتھ ہوں ۔ پس جب تک یہ دوسری قسم کا ایمان پیدا نہ ہو میں نہیں کہہ سکتا کہ ایک آدمی خدا کو مانتا ہے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کو مانتا بھی ہو اور پھر گناہ بھی کرتا ہو۔ دنیا کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے ماننے والوں کا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ اقرار کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس اقرار کے ساتھ ہی وہ دنیا کی نجاستوں میں مبتلا اور گناہ کی کدورتوں سے آلودہ ہیں پھر وہ کیا بات ہے کہ وہ خاصہ جو ایمان باللہ کا ہے اس کو حاضر ناظر مان کر پیدا نہیں ہوتا ؟ دیکھو ! انسان ایک ادنیٰ درجہ کے چوہڑے چمار کو حاضر ناظر دیکھ کر اس کی چیز نہیں اٹھاتا پھر اس خدا کی مخالفت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی میں دلیری اور جرات کیوں کرتا ہے جس کی بابت کہتا ہے کہ مجھے اس کا اقرار ہے؟ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ دنیا کے اکثر لوگ ہیں جو اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں کوئی پرمیشر کہتا ہے کوئی گاڈ کہتا ہے کوئی اور نام رکھتا ہے۔ مگر جب عملی پہلو سے ان کے اس ایمان اور اقرار کا امتحان لیا جاوے اور