ملفوظات (جلد 3) — Page 471
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۱ جلد سوم خوف کے سبب سے دور ہو جاتے ہیں یعنی استیلاء خوف الہی بھی ایک ایسی تھے ہے جو گناہوں کو دور کرتی ہے اور ان سے بچاتی ہے۔ یہ ذریعہ ایسا ہے جیسے پولیس کے خوف سے انسان قانون کی خلاف ورزی سے بچتا ہے۔ پھر دوسرا ذریعہ گناہوں سے بچنے کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر اطلاع پانے کے بعد اس کی محبت بڑھتی ہے اور پھر اس محبت سے گناہ دور ہوتے ہیں ۔ ان دونوں ذریعوں سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں۔ ایک اور قسم کے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ گناہ ان سے سرزد نہ ہومگر وہ کچھ ایسے غفلت میں پڑ جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ گناہ ہو ہی جاتے ہیں لیکن یہ امر انسان کی فطرت اور رگ وریشہ میں رچا ہوا ہے کہ وہ شدت خوف سے بچتا ہے جیسے میں نے کہا کہ شیر کے سامنے اگر بکری کو باندھ دیں تو گھاس نہیں کھا سکتی یا حاکم کے سامنے کوئی انسان اکڑ کر کھڑا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ اس کے سامنے نہایت عاجزی اور احتیاط سے خاموش کھڑا ہوگا ۔ یہ احتیاط اور عجز ، خوف اور حاکم کے رُعب اور حکومت کا نتیجہ ہے لیکن یہی نتیجہ محبت سے بھی پیدا ہوتا ہے جب ایک شخص اپنے محسن کے سامنے جاتا ہے تو وہ اس کے احسان کو یاد کر کے خود بخود نرم اور محتاط ہو جاتا ہے اور ایک حیا اس کی آنکھوں میں پیدا ہوتا ہے۔ محسن کے ساتھ محبت بڑھتی ہے جیسے کوئی شخص کسی کا قرضہ ادا کر دے تو وہ اس سے کس قدر محبت کرتا ہے پھر اس محبت کے تقاضے سے وہ اس کی خلاف ورزی اور خلاف مرضی کرنا نہیں چاہتا یہ فرمانبرداری اور اطاعت محبت ذاتی سے پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر انسان کو اگر خدا تعالیٰ کے ان احسانات کا علم ہو جو اس پر اس نے کئے ہیں تو وہ اس کی محبت ذاتی کی وجہ سے گناہوں سے بچے گا اور پھر کوئی تحریک اس طرف نہیں لے جاسکتی اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوئی بادشاہ کسی ماں کو حکم دیوے کہ اگر تم اس ہے کہ جسے کو تم اس بچے کو دکھ دو گی اور دودھ نہ دو گی یہاں تک کہ اگر وہ بچہ مر بھی جاوے تو تم کو کوئی سزا نہ ملے گی بلکہ ہم انعام دیں گے تو وہ ہرگز ہرگز اس حکم کی تعمیل نہ کرے گی اور ایسا کرنا پسند نہیں کرے گی۔ اس لئے کہ اس کی فطرت میں بچہ کے ساتھ محبت کا ایک جوش ہے اور یہ جوش محبت ذاتی کا جوش ہے پس انسان جب خدا تعالیٰ کے ساتھ اس قسم کی محبت کرنے لگتا ہے تو پھر اس سے جو نیکیاں صادر ہوتی ہیں اور وہ