ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 39

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹ جلد سوم میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں ۔ بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے۔ لیکن جناب الہی کو ان امور کی پروا نہیں ۔ اُس نے تو صاف طور پر فرمادیا کہ ان أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقَكُمُ (الحجرات : (۱۴) یعنی اللہ تعالی کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔ اب جو جماعت اتقیا ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔ یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہو سکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور نا پاک بھی وہیں ۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے ۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بد بخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔ اگر کوئی یہ خیال کرے کہ ان میں علماء بھی ہیں۔ ملہم بھی الہی اور شیطانی الہام میں فرق ہیں تو یہ ایک خیالی بات ہے اور اس سے کوئی فائدہ اس مقصد کو نہیں پہنچ سکتا جو انسانی ہستی کا ہونا چاہیے۔ یاد رکھو وہ امرجس پر خدا راضی ہوتا ہے جب تک وہ نہ ہونہ علم صحیح ہوتا ہے نہ الہام مفید ۔ جو شخص پاخانہ کے پاس کھڑا ہے۔ پہلے تو اُس کو بد بو ہی آئے گی۔ پھر اگر عطر اس کے پاس کیا جاوے تو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا ۔ جب تک خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہ ہو کچھ نہیں ملتا اور خدا سے قریب کرنے والی بات صرف تقویٰ ہے۔ سچی آواز سننے کے لیے متقی بننا چاہیے۔ میں نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو ہر آواز کو جو انہیں آجاوے الہام ہی سمجھتے ہیں حالانکہ اضغاث احلام بھی ہوتے ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو آوازیں انہیں سنائی دیتی ہیں وہ بناوٹی ہیں۔ نہیں اُن کو آوازیں آتی ہوں گی مگر ہم ہر آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار نہیں دے سکتے جب تک اس کے ساتھ وہ انوار اور برکات نہ ہوں جو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ان الہام کے دعویٰ کرنے والوں کو اپنے الہاموں کو اس کسوٹی پر پرکھنا چاہیے اور اس بات کو بھی انہیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بعض آوازیں نری شیطانی ہوتی ہیں ۔ اس لیے ان آوازوں پر ہی فریفتہ ہو جانا دانشم مند انسان کا کام نہیں بلکہ جب تک اندرونی نجاست اور گند دور نہ ہو اور تقویٰ