ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 470

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۰ جلد سوم ہے جبکہ گھر کا مالک جاگتا ہو اور روشنی بھی ہو یا اس وقت کرتا ہے جبکہ مالک سویا ہوا ہو اور ایسا اندھیرا ہو کہ کچھ دکھائی نہ دیتا ہو؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ اسی وقت چوری کرتا ہے جب وہ یقین کرتا ہے کہ مالک بے خبر ہے اور روشنی نہیں ہے۔ اسی طرح پر ایک شخص جو گناہ کرتا ہے وہ اس وقت کرتا ہے جبکہ خدا سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اس کو اس پر کچھ یقین نہیں ہوتا نہ اس وقت جبکہ اسے یقین ہو کہ خدا ہے۔ اور وہ اس کے اعمال کو دیکھتا ہے اور اس کو سزا دے سکتا ہے اور یہ علم ہو کہ اگر میں کوئی کام اس کی خلاف مرضی کروں گا تو وہ اس کی سزا دے گا۔ جب یہ علم اور یقین خدا کی نسبت ہو تو پھر گناہ کی طرف میل اور توجہ نہیں ہو سکتی ۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ میں ہمیشہ اس کے ماتحت ہوں اور وہ میری بداعمالیوں کی سزا دے سکتا ہے اور میرے اعمال کو دیکھتا ہے پھر جرات نہیں کر سکتا جیسے ایک بھیڑ کو بھیڑیئے کے سامنے باندھ دیا جاوے تو کسی دوسرے کے کھیت کی طرف جانا در کنار اس کے سامنے کتنا ہی گھاس کھانے کے لئے ڈالا جاوے تو وہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی کیونکہ ایک خوف جان اس پر غلبہ کئے ہوئے ہے۔ پس جبکہ خوف ایک وحشی جانور تک اپنا اتنا اثر کر سکتا ہے کہ وہ کھانا تک چھوڑ دیتا ہے تو پھر انسان جب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے اسی طرح سمجھے اور یقین کرے کہ وہ دیکھتا ہے اور گناہ پر سزا دیتا ہے تو اس یقین کے بعد گناہ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا بلکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ صاعقہ کی طرح اس پر گرے گا اور تباہ کر دے گا۔ پس یہ خوف جو خدا تعالیٰ کو بزرگ و برتر اور قدرت والا ماننے سے پیدا ہوتا ہے اس کو گناہ سے بچائے گا اور یہ سچا ایمان پیدا کرے گا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں جیسے چوری کرنا ، زنا، ڈا کہ وغیرہ جو موٹے موٹے گناہ کبیرہ و صغیرہ گناہ کہلاتے ہیں۔ دوسرے صغیرہ جو بلحاظ بشریت کے انسان سے سرزد ہو جاتے ہیں باوجود یکہ انسان اپنے آپ میں بڑا ہی بچتا اور محتاط رہتا ہے مگر بشریت کے تقاضے سے بعض ناسزا امور اس سے سرزد ہو جاتے ہیں ۔ جو دوسری قسم کے گناہ ہیں۔ اسی طرح پر گناہ کے دور ہونے کے بھی دو ذریعے ہیں ۔ اوّل وہ ذریعہ ہے کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے غلبہ