ملفوظات (جلد 3) — Page 469
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٤٦٩ جلد سوم اور اگر وہ امر اس کے لئے بہتر ہوگا تو خدا تعالیٰ اس کے لئے اس کے دل کو کھول دے گا ورنہ طبیعت میں قبض ہو جائے گی ۔ دل بھی عجیب شے ہے جیسے ہاتھوں پر انسان کا تصرف ہوتا ہے کہ جب چاہے حرکت دے ۔ دل اس طرح اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے۔ ایک وقت میں ایک بات کی خواہش کرتا ہے پھر تھوڑی دیر کے بعد اسے نہیں چاہتا۔ یہ ہوائیں اندر سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلتی ہیں۔ دو تین روز سے لاہور کے ایک معزز اور قدیمی رئیس خاندان ایک حق جو پنڈت سے مکالمہ کے ایک پنڈت صاحب دارالامان میں تشریف لائے ہوئے تھے حضرت اقدس کی زیارت اور آپ سے استفادہ ان کا منشا تھا۔ ۲۶ دسمبر کی شام کو حضرت مسیح موعود سے ان کا جو مکالمہ ہوا اسے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں ۔ حضرت اقدس ۔ آپ نے کون کون سی کتاب دیکھی ہے؟ گناہ سوز فطرت کیوں کر پیدا ہو پنڈت صاحب مثنوی مولانا روم صاحب اپنشد اور کئی ب ۔ مثنوی صاحب مذہبی فقراء کی کتا بیں نگرانسان کا اپنے نفس پر قابو پانامشکل ہے یہ بالضرور انسان کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ حضرت اقدس ۔ اصل بات یہ ہے کہ جس طرح طبیب کے پاس کوئی بیمار جا تا ہے تو اس وقت تک وہ اس کا علاج نہیں کر سکتا جب تک وہ یہ تشخیص نہ کرلے کہ مرض کا اصلی سب کیا ہے؟ اور جب وہ مرض کا سبب اصلی معلوم کر لیتا ہے تو پھر وہ اس کا علاج تجویز کرتا ہے۔ لیکن جب تک پورے پورے طور پر مرض کی تشخیص نہیں ہو لیتی تو وہ عمدہ طور پر اس کا علاج نہیں سوچ سکتا۔ ٹھیک یہی حال گناہ کا ہے کیونکہ گناہ ایک روحانی بیماری ہے جب تک اس کی ماہیت معلوم نہیں ہوتی اس وقت تک انسان کیونکه گناه ایک روز تک ماہیت گناہ سے بچ نہیں سکتا ۔ اس پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ انسان گناہ کی طرف کیوں جھکتا ہے اور یہ گناہ کا خیال پیدا ہی کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اس وقت تک انسان گناہ کرتا ہے جب تک وہ خدا سے بے خبر رہتا ہے بھلا کیا کوئی شخص جو چوری کرتا ہے وہ اس وقت کرتا ل البدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۷۸