ملفوظات (جلد 3) — Page 468
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۸ جلد سوم کہ ایک درخت کے تلے ایک شخص بے دست و پا پڑا ہے۔ اس نے ان کو دیکھتے ہی کہا کہ اے جنید! میں کتنی دیر سے تیرا منتظر ہوں تو دیر لگا کر کیوں آیا ۔ تب آپ نے کہا کہ اصل میں تیری ہی کشش تھی جو مجھے بار بار مجبور کرتی تھی تو اسی طرح ہر ایک امر میں ایک کشش قضا و قدر کی مقدر ہوتی ہے وہ پوری نہ ہوئے تو آرام نہیں آتا۔ آپ سفر کریں تو دین کی نیت سے کریں دنیا کی نیت سے جو سفر ہوتا ہے وہ گناہ ہوتا ہے اور انسان تب ہی درست ہوتا ہے کہ ہر ایک بات میں کچھ نہ کچھ اس کا رجوع دین کا ہووے۔ ہر ایک مجلس میں اس نیت سے جاوے کہ کچھ پہلو دین کا حاصل ہو۔ حدیث شریف میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے مکان بنایا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس نے عرض کیا کہ آپ وہاں تشریف لے چلیں تو آپ کے قدموں سے برکت ہو۔ جب وہاں حضرت گئے تو آپ نے ایک دریچہ دیکھا پوچھا کہ یہ کیوں رکھا ہے اس نے عرض کی کہ ہوا ٹھنڈی آتی رہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اگر تو یہ نیت کی کر لیتا کہ اذان کی آواز سنائی دے تو ہوا بھی ٹھنڈی آتی رہتی اور ثواب بھی ملتا ۔ پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ سفر سے پہلے استخارہ اور اس کا طریق آپ استخارہ کر لیویں۔ استخارہ اہل اسلام میں بجائے مہورت کے ہے چونکہ ہندو شرک وغیرہ کے مرتکب ہو کر شگن وغیرہ کرتے ہیں اس لئے اہلِ اسلام کے ہے چونکہ نے ان کو منع کر کے استخارہ رکھا۔ اس کا طریق یہ ہے کہ انسان دورکعت نماز نفل پڑھے۔ اول رکعت میں سورۃ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ (الکافرون : ۲) پڑھ لے اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللهُ (الاخلاص: ۲) التحیات میں یہ دعا کرے۔ وو یا الہی ! میں تیرے علم کے ذریعے سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے قدرت مانگتا ہوں کیونکہ تجھی کو سب قدرت ہے مجھے کوئی قدرت نہیں اور تجھے سب علم ہے مجھے کوئی علم نہیں اور تو ہی چھپی باتوں کو جاننے والا ہے الہی اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر میرے حق میں بہتر ہے بلحاظ دین اور دنیا کے تو تو اسے میرے لئے مقدر کر دے اور اسے آسان کر دے اور اس میں برکت دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ امر میرے لئے دین اور دنیا میں شر ہے تو مجھ کو اس سے باز رکھ ۔“