ملفوظات (جلد 3) — Page 38
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد سوم حاصل کرتے ہیں مگر وہ کامل علم جو اس مامور کو دیا جاتا ہے کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا اور خدا تعالیٰ کا علم تو پھر اور ہی رنگ رکھتا ہے۔ جب مامور کی تکذیب اور انکار حد تک پہنچ جاتا ہے تو پھر ٹھیک اسی طرح جیسے زمیندار جب فصل پک جاتی ہے تو اس کے کاٹنے کے واسطے درانتی کو درست کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی مکذبوں کے لیے تیاری کرتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ وقت آگیا ہے خدا تعالیٰ ہر پہلو سے حجت پوری کر چکا ہے ۔ اس لیے اب ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ خاموشی سے آسمانی ہتھیار اور حربے کو دیکھے۔ دنیا میں ہم یہ قانون دیکھتے ہیں کہ جب ایک حاکم کوم کہ جب ایک حاکم کو معلوم ہو جاوے کہ فلاں مظلوم ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ جس کا علم سب سے زیادہ صحیح اور یقینی ہے جو ہر حال کا بینا ہے کیوں اس مظلوم صادق کی مدد نہ کرے گا ۔ جو محض اس لیے ستایا گیا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر یہ کہا کہ میں خدا کی طرف سے اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ اُن کی مدد کرتا ہے لیکن ہاں یہ سنت اللہ ہے کہ وہ صبر سے کام لیتا ہے ۔ یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کو اس تکذیب اور انکار کی خبر نہیں کفر ہے۔ وہ تو ابتدا سے جانتا ہے کہ کیا کیا جاتا ہے۔ اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے دو فریق ہو گئے ہیں۔ جس طرح ہماری جماعت شرح صدر سے اپنے آپ کو حق پر جانتی ہے اسی طرح مخالف اپنے غلو میں ہر قسم کی بے حیائی اور جھوٹ کو جائز سمجھتے ہیں۔ شیطان نے اُن کے دلوں میں جما دیا ہے کہ ہماری نسبت ہر قسم کا ا ہماری نسبت ہر قسم کا افترا اور بہتان اُن - ن اُن کے لیے جائز ہے اور نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا کام ہے۔ اس لیے اب ضروری ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو ان کے مقابلے میں بالکل چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کے فیصلہ پر نگاہ کریں ۔ جس قدر وقت اُن کی بیہودگیوں اور گالیوں کی طرف توجہ کرنے میں ضائع کریں بہتر ہے کہ وہی وقت استغفار اور دعاؤں کے لیے دیں۔ ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یادرکھنی چاہیے خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھیں جو میں بیان کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتے ناطے ہوتے ہیں ۔ بعض ان