ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 459

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۹ جلد سوم اور بیعت کا سلسلہ کب چل سکتا ہے؟ یہ تو جب ہی چل سکتا ہے کہ صفائی ہو اور پیروؤں کو معلوم ہو کہ پاک باطنی کی تعلیم دی جاتی ہے اور جب ہم خود ہی قتل کے منصوبے لوگوں کو سمجھاویں تو یہ کاروبار کیسے چل سکتا ہے؟ اب یہ اس قدر گروہ ہے کوئی ان میں سے بولے کہ ہم نے کس کو کب کہا تھا کہ جا جا کر اسے مار ڈالے۔ پھر عقل کے شیدائیوں کی نسبت فرمایا کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر چل رہا ہے جس طور سے ہم سمجھتے ہیں اور منہاج نبوت پر یہ سلسلہ چل رہا ہے اس کے بغیر سمجھ نہیں آتا۔ یہ لوگ خواہ دہر یہ ہوں یا نہ ہوں مگر بے بہرہ ضرور ہیں۔ پاک زندگی ، استقامت ، تو کل ان کو پورے طور پر نصیب نہیں ہوتا اور بڑے دنیا دار ہوتے ہیں۔ عرب صاحب نے سوال کیا کہ ایک شخص نے مجھ پر اعتراض کیا تھا کہ شریعت یتیم پوتے کا مسئلہ اسلام میں ہونے کے واسطے کوئی حصہ وصیت میں نہیں ہے ۔ ہے۔ اگر ایک شخص کا پوتا یتیم ہے تو جب وہ شخص مرتا ہے تو اس کے دوسرے بیٹے حصہ لیتے ہیں اور اگر چہ وہ بھی اس کے بیٹے کی اولاد ہے مگر وہ محروم رہتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ دادے کا اختیار ہے کہ وصیت کے وقت اپنے پوتے کو کچھ دیدے بلکہ جو چاہے دیدے اور باپ کے بعد بیٹے وارث قرار دیئے گئے کہ تا ترتیب بھی قائم رہے اور اگر اس طرح نہ کہا جاتا تو پھر ترتیب ہرگز قائم نہ رہتی کیونکہ پھر لازم آتا ہے کہ پوتے کا بیٹا بھی وارث ہو اور پھر آگے اس کی اولا د ہو تو وہ وارث ہو۔ اس صورت میں دادے کا کیا گناہ ہے۔ یہ خدا کا قانون ہے اور اس سے حرج نہیں ہوا کرتا ورنہ اس طرح تو ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور جس قدر سلاطین ہیں وہ بھی آدم کی اولاد ہیں تو ہم کو چاہیے کہ سب کی سلطنتوں سے حصہ بٹانے کی درخواست کریں۔ چونکہ بیٹے کی نسبت سے آگے پوتے میں جا کر کمزوری ہو جاتی ہے اور آخر ایک حد پر آکر تو برائے نام رہ جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اس طرح کمزوری نسل میں اور ناطہ میں ہو جاتی ہے اس لئے یہ قانون رکھا۔ ہاں ایسے سلوک اور