ملفوظات (جلد 3) — Page 458
ملفوظات حضرت مسیح موعود افضل اور برتر ہیں دن بدن ترقی کر رہے ہیں ۔ لد ٧٥ جلد سوم اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر انکار ہو سکتا ہے تو مخلوق کے وجود کا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کا تصرف ہر آن میں اس کے ہر ذرہ ذرہ پر اس قدر ہے کہ گویا اس کی ہستی کوئی شے ہی نہیں ہے اور بلا اس کے تصرف کے ہم نہ کچھ بول سکتے ہیں نہ کچھ کر سکتے ہیں۔ جو طالب حق ہے وہ ہماری صحبت میں رہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسی ہی ذات ہے جن صفات سے قرآن شریف میں لکھا ہے۔ ان صفات سے ہم اسے ثابت کر کے دکھا دیویں گے۔ بڑی نادانی یہ ہے کہ ایک عالم کی بات کو وہ دوسرے عالم کے حواس سے ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک حواس سے دوسرے حواس کا کام نہیں لے سکتے مثلاً آنکھ ناک کا اور کان آنکھ کا کام نہیں دے سکتے ۔ جب خارج میں یہ حالت ہے تو باطن میں وہ کیا کہہ سکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ انسان کو ایک اور حواس ملتے ہیں ۔ تب یہ اللہ تعالیٰ کو شناخت کر سکتا ہے۔ بجز اس کے ہرگز نہیں کر سکتا۔ ایک دہریہ سے یہ سوال ہے کہ قبل از وقت طاقت اور اقتدار سے بھری ہوئی پیشگوئیاں جو ہم کرتے ہیں یہ کہاں سے ہوتی ہیں؟ اگر کہو کہ یہ کوئی علم نہیں ہے تو اس علم کے ذریعے سے وہ بھی کر سکتا ہے کر کے دکھاوے۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ ایک زبر دست طاقت ہے جو الہام کر رہی ہے یہ پیشگوئیاں جو کہ غیبو بیت کے رنگ اور طاقت اور اقتدار کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ان سے بڑھ کر اور کوئی نشان ( خدا پر ایمان لانے کے واسطے ) نہیں ہے نہ آسمان نہ زمین نہ اور کوئی تھے۔ ان پر نظر کر کے جو نتیجہ نکالیں گے اور جو بات پیش کریں گے وہ ظنی ہوگی ۔ یہی ایک بات ( پیشگوئی والی ) یقینی ہے کہ جس کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عرب صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے نے ذکر کیا کہ ایک لیکھرام کو قتل کروانے کے الزام کا جواب کیا اسے لیکرام کو خود اپنے کسی کہا جماعت کے آدمی کے ذریعہ سے مروا ڈالا ہے۔ اس پر فرمایا کہ ہمارے ساتھ ہزار ہا جماعت ہے اگر ان میں سے کسی کو کہوں کہ تم جا کر مار آؤ تو یہ میری پیری