ملفوظات (جلد 3) — Page 457
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۷ جلد سوم لگے کہ ان حواس کے علاوہ اور حواس بھی انسان کے اندر ہیں۔ خدا کی معرفت کا ان سے پتہ لگتا ہے اور اور اُمور بھی ہیں جن پر انسان ایمان لاتا ہے۔ لے مثلاً روح، ملائک ، اب عقل ان کے متعلق کیا بتلا سکتی ، ہے۔ روح کے بقا اور ملائکہ کے متعلق کیا دلیل لاؤ گے ۔ کوئی شے ظاہری طور پر ثابت شدہ تو ہے نہیں۔ آپ پ ہی بتلاویں کہ خدا ، روح ، ملائک ان تین میں عقل نے کیا فیصلہ کیا ہے جو کچھ کیا ہے سب ا ہے۔ اصل بات کوئی نہیں اگر کہو علت العلل کے سلسلہ سے خدا کی معرفت تامہ ہوتی ہے تو یہ بات بھی سب انکل غلط ہے کیونکہ علت اور معلول کے سلسلہ کو تو دہر یہ بھی مانتے ہیں۔ مگر پھر خدا کو نہیں مانتے ۔ فلسفہ میں ذرا کچے جو رہتے ہیں وہ خدا کا نام لیتے ہیں ورنہ پکا فلسفی ضرور د ہر یہ ہوتا ہے۔ حکیم نورالدین صاحب نے اس مقام پر حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ مجوسی لوگ اس دور تسلسل پر کو چرخہ اور زنجیر کہتے ہیں اور انہیں سے یہ مسئلہ لیا گیا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت ہم تو کہتے ہیں کہ خدا کے وجود جیسا اور کوئی وجود روشن ہی نہیں ہے۔ اس مقام پر حکیم نورالدین صاحب نے عرض کی کہ حضرت بہت دہریوں کے ساتھ میرا اتفاق ملنے کا ہوا ہے مگر ایک دہر یہ میں نے نیاد ۔ نیاد یکھا اس کا یہ مقولہ ہے کہ خدا ایک ہستی ضرور ہے مگر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گلاب کا پھول ہوتا ہے اور ایک اس کی جڑھ جس سے وہ پھول نکلا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح خدا تو مثل جڑھ کے ہے اور ہم وہ پھول ہیں مگر پھول جڑھ سے زیادہ عمدہ اور مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم خدا سے لے الحکم میں اس جگہ حواس کا مضمون یوں درج ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان حواس کے ذریعہ ہم ان باتوں کو ان باتو محسوس کر لیں جن کے لئے دوسرے حواس ہیں ۔ کیا کان آنکھ کا کام دے سکتے ہیں یا زبان کانوں کا کام دے سکتی ہے پھر کس قدر غلطی ہے کہ اس امر پر زوردیا جاوے۔ خدا شناسی کے لئے حواس اور ہیں اور ان کے ذریعہ ہی ان امور پر جوان محسوسات سے ماوراء ہیں ایمان پیدا ہوتا ہے عقل مند ان چیزوں پر جیسے ملائک ہیں ، خدا ہے ، روح کا بقا ہے۔ ان پر عقلی دلائل تلاش نہیں کرتا بلکہ اس راہ سے ایمان لاتا ہے جو اس کے لئے مقرر ہے۔ فلاسفر صرف اٹکل بازی سے کام لیتے ہیں وہ قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے ۔ ہاں انکار کر دیتے ہیں ۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۲)