ملفوظات (جلد 3) — Page 456
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۶ جلد سوم طرف کہ نبوت ان کے خاندان سے جاتی رہی ۔ پس مسیح کا بن باپ ہونا اس امر کا نشان تھا۔ مسیح کے بن باپ پیدا ہونے پر عقلی دلائل کیا ہیں؟ ا پھر سوال کیا کہ مسیح فرمایا۔ آدم کے بن باپ پیدا ہونے پر کیا دلیل ہے اور عقلی امتناع بن باپ پیدا ہونے میں کیا ہے۔ عقل انسان کو خدا سے نہیں ملاتی بلکہ خدا سے انکار کراتی ہے۔ پکا فلسفی وہ ہوتا ہے جو خدا کو نہیں مانتا۔ بھلا آپ سوچ کر دیکھیں کہ اس بات میں عقل ہمیں کیا بتلاتی ہے کہ جو کچھ ہم بول رہے یہ کہاں جاتا ہے کیا کسی جگہ بند ہوتا ہے یا یونہی ہوا میں اُڑ جاتا ہے۔ عقل کے جس قدر ہتھیار ہیں وہ سب لکھتے ہیں ۔ مگر ہم خدا تعالیٰ کے وعدوں اور نشانوں کو دیکھتے ہیں تب یقین کرتے ہیں کہ خدا ہے۔ ایک فلسفی اگر بہت خوش اور تدبر کے بعد کوئی نتیجہ نکالے گا تو صرف اس قدر کہ ایک خدا ہونا چاہیے مگر ہے اور ہونا چاہیے میں بہت بڑا فرق ہے مثلاً ہم کہیں کہ اگر دو آنکھیں ہماری آگے ہیں تو دو اور پیچھے کی طرف بھی ہونی چاہئیں تھیں کہ انسان پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا اور اگر کوئی دشمن پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا تو وہ اپنی حفاظت کر سکتا ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ پیچھے کی طرف آنکھیں نہیں ہیں ۔ اسی طرح سے ہونا چاہیے اور ہے میں بہت فرق ہے۔ غرضیکہ عقل سے بالکل خدا کا وجود ثابت نہیں ہو سکتا۔ ۔ عرب صاحب نے کہا کہ اسلام کا کوئی مسئلہ عقل کے خلاف نہیں؟ عقل کی حیثیت حضرت اقدس نے فرمایا۔ یہ سچ ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ عقل بالکل نکلتی ھے ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے روٹی کے ساتھ سالن کہ اس کے سہارے انسان کھانا خوب کھالیتا ہے۔ ایسے ہی عقل ہے کہ اس سے ذرا ( معرفت خدا) میں مزا آ جاتا ہے ورنہ یوں عقل اس میدان میں بڑی نکلتی ہے۔ خدا کی معرفت دوسرے حواس سے ہے رنہ میں کی حوا کہ جس میں یہ معقل کوئی کام نہیں کرتی۔ نہ تسلی دیتی ہے ایک ناکارہ ہتھیار کی طرح ہے۔ عرب صاحب نے سوال کیا، یہ ہم تو مان لیویں مگر دوسرے آدمی کو کیسے سمجھاویں کہ اور حواس ہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ غیر کو ہم یہ جواب دیویں گے کہ جو لوگ ایسی بات کے اہل ہیں ان کی صحبت میں رہو کہ ان کو پتہ