ملفوظات (جلد 3) — Page 455
ملفوظات حضرت مسیح موعود ( بوقت مغرب ) ۴۵۵ حضرت اقدس کے تشریف لاتے ہی ہمارے مکرم مخدوم ابوسعید مسیح بن باپ پیدا ہوئے عرب صاحب نے جو رنگون سے آئے ہوئے ہیں سوال کیا کہ ا جلد سوم مسیح کی ولادت کے متعلق کیا بات ہے وہ بن باپ کس طرح پیدا ہوئے؟ حضرت اقدس نے جواباً فرمایا۔ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ( البقرة: ۱۱۸) ہم اس بات پر ایمان لا مان لاتے ہیں کہ مسیح بن باپ پیدا ہوئے اور قرآن شریف سے یہی ثابت ۔ ما ثابت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت مسیح یہود کے واسطے ایک نشان تھے جو ان کی شامت اعمال سے اس رنگ میں پورا ہوا۔ زبور اور دوسری کتابوں میں لکھا گیا تھا کہ اگر تم نے اپنی عادت کو نہ بگاڑا تو نبوت تم میں رہے گی۔ مگر خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ اپنی حالت کو بدل لیں گے۔ اور شرک و بدعت میں گرفتار ہو جائیں گے۔ جب انہوں نے اپنی حالت کو بگاڑا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق یہ تنبیہی نشان ان کو دیا اور مسیح کو بن باپ پیدا کیا۔ اور بن باپ پیدا ہونے کا سر یہ تھا کہ چونکہ سلسلہ مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کا سر نسب کا باپ کی طرف ہوتا ہے تو اس طرح گویا سلسلہ منقطع ہو گیا اور اسرائیلی خاندان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی کیونکہ وہ پورے طور سے اسرائیل کے خاندان سے نہ رہے۔ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ (الصف : ۷) میں بشارت ہے۔ اس کے دو ہی پہلو ہیں یعنی ایک تو آپ کا آپ کا وجود ہی بشارت تھا بشارت تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے خاندانِ نبوت کا خاتمہ ہو گیا دوسرے زبان سے بھی بشارت دی یعنی آپ کی پیدائش میں بھی بشارت تھی اور زبانی بھی۔ انجیل میں بھی مسیح نے باغ کی تمثیل میں اس امر کو بیان کر دیا ہے اور اپنے آپ کو مالک باغ کے بیٹے کی جگہ ٹھہرایا ہے۔ بیٹے کا محاورہ انجیل اور بائبل میں عام ہے۔ اسرائیل کی نسبت آیا ہے کہ اسرائیل فرزند من بلکه نخست زاده من است - آخر اس تمثیل میں بتایا گیا ہے کہ بیٹے کے بعد وہ مالک خود آ کر باغبان کو ہلاک کر دے گا اور باغ دوسروں کے سپرد کر دے گا ۔ یہ اشارہ تھا اس امر کی