ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 454

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ولد جلد سوم زَمَنْ كَمَثَلِ زَمَنِ مُوسَی اتنے برس سے یہ سلسلہ ہمارا جاری ہے مگر یہ الہام کبھی نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر تیاری ہوئی ہے۔ او مولویوں کے احادیث پیش کرنے پر فرمایا کہ سیح بمعنی سیاح ان پر ایسا وثوق تو نہں ہوتا جیسے کلام الہی پر کیونکہ خواہ کچھ ہی ہو، پھر بھی وہ میں انسان سے تو خالی نہیں ۔ مگر خدا تعالیٰ جس کی تنقید کرتا جاوے وہ صحیح ہوتا جاوے گا۔ اگر احادیث میں نزول مسیح کا ذکر تھا تو دیکھئے قرآن شریف میں وَ قَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ (البقرة : ۸۸) موجود ہے جو کہ اصل حقیقت کو واضح کر رہا ہے۔ مولویوں نے اس بات کو نہیں سمجھا اور اور طرف دوڑتے رہے۔ مسیح کے معنے بہت سیر کرنے والا ۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ جب وہ آسمان پر ہے تو اس نے سیر کہاں کی ہوگی اور لفظ مسیح کے معنے اس پر کیسے صادق آویں گے۔ ایک طرف اسے آسمان پر بٹھاتے ہیں دوسری طرف سیاح کہتے ہیں تو اس کی سیاحت کا وقت کونسا ہوا ۔ کے اء الحکم میں ہے۔ ” مولانا مولوی حضرت عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ مسیح اپنی جماعت کو طور پر لے جاوے گا۔ شاید اس کا تعلق اس سے ہو ۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱) مسیح کے ذکر کے سلسلہ میں الحکم میں مندرجہ ذیل عبارت درج ہے۔ فرمایا ۔ خدا تعالیٰ نے جیسے بنی اسرائیل میں ایک مسیح رکھا تھا اور اس لئے لَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ الآية ( البقرة : (۸۸) فرمایا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں بھی ایک مسیح رکھا ہوا تھا مگر مسلمانوں نے اس کو نہ سمجھا اور آسمان سے انتظار کرنے لگے۔ افسوس ہے کہ ان کو اتنی سمجھ نہ آئی کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اس سے پائی جاتی ہے کہ مسیح اسرائیلی آوے یا یہ کہ آپ ہی کی اُمت میں سے آوے یہاں بھی اسی طرح مسیح کا آنا ضروری تھا جیسے بنی اسرائیل میں ایک مسیح آیا۔ فرمایا۔ براہین میں جو سیح کی دوبارہ آمد کا ذکر کیا گیا اور پھر وہ تمام وعدے اور آیات میرے حق میں ہیں جو سیح موعود کے لئے ہیں اور اس پر میں اقرار کرتا ہوں کہ مسیح دوبارہ آئے گا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ بناوٹ کی راہ سے نہیں کیا گیا اور اس قسم کے واقعات قریباً تمام نبیوں کے واقعات زندگی میں پائے جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱)